اسلام آباد/ نیویارک: پاکستان نے عالمی سیاست کے تخت پر ایک ایسی شاندار واپسی کی ہے جس نے نہ صرف دوستوں بلکہ دشمنوں کو بھی اعترافِ حقیقت پر مجبور کر دیا ہے۔
عالمی میڈیا، بشمول امریکہ اور بھارت کے معتبر ترین اخبارات، اس وقت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی "سائلنٹ ڈپلومیسی” اور مردِ بحران کے روپ میں ان کے ابھرنے پر حیرت زدہ ہیں۔
بھارتی میڈیا کا اعتراف: "دشمن بھی تعریف پر مجبور”
بھارت کے سب سے بڑے اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ نے ایک خصوصی فیچر میں اعتراف کیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ٹرمپ، چین اور ایران جیسے متضاد طاقتوں کو ایک ہی پیج پر لا کر پاکستان کی سفارتی واپسی کا "معجزہ” کر دکھایا ہے۔ اخبار کے مطابق، پاکستان نے جس طرح خود کو عالمی تنہائی سے نکال کر مرکز میں لا کھڑا کیا، وہ ایک بے مثال تزویراتی کامیابی ہے۔
ٹرمپ کے ساتھ ’خاص رابطہ‘ اور نوبل انعام کی نامزدگی
امریکی جریدے ’واشنگٹن ایگزامنر‘ اور ’وال سٹریٹ جرنل‘ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کی کامیابی کی اصل وجہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ڈونلڈ ٹرمپ کے اندرونی حلقے تک رسائی اور ان کی شخصیت کو سمجھنے کی گہری صلاحیت ہے۔ اور اب تیسری جنگ عظیم کو ٹالنے کی وجہ سے ممکنہ طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو مشترکہ طور پر نوبل انعام ملنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
واشنگٹن ایگزامنر کے مطابق، پاکستان نے نوبل امن انعام کے لیے نامزدگی اور معدنی ذخائر کے معاہدوں کو ٹرمپ کی "کاروباری سوچ” کے عین مطابق استعمال کیا۔
اخبار نے ایک ذریعے کے حوالے سے لکھا: "اسلام آباد کو ایران کا اعتماد حاصل تھا، اس کے پاس چینی طاقت تھی، اور وہ جانتے تھے کہ ٹرمپ کے ساتھ کارڈز کیسے کھیلنے ہیں۔”
سب سے زیادہ چونکا دینے والی رپورٹ ’نیویارک ٹائمز‘ اور ’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘ نے دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جنگ بندی کا اعلان کرنے سے چند لمحے پہلے صدر ٹرمپ نے صرف دو اہم فون کالز کیں:
پہلی کال اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کو۔
دوسری کال پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو۔
’فری پریس جرنل‘ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ٹرمپ نے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں اسرائیل کے برابر "اسٹریٹیجک مقام” دے کر دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا ہے۔
’ناکام ریاست‘ کا بیانیہ دفن
’ایشیا ٹائمز‘ نے اپنے تجزیے میں لکھا ہے کہ نائن الیون کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان امریکی اسٹریٹیجک سوچ کے مرکز میں آیا ہے، لیکن اس بار پاکستان کسی مجبوری کے تحت نہیں بلکہ ایک "ناگزیر ثالث” (Indispensable Mediator) کے طور پر ابھرا ہے۔ اس پیش رفت نے بھارت کے اس پسندیدہ بیانیے کو مستقل طور پر تباہ کر دیا ہے کہ پاکستان ایک ناکام یا حاشیے پر لگی ہوئی ریاست ہے۔
عالمی پریس کا مجموعی تاثر یہ ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خاموش مگر جارحانہ سفارت کاری کے ذریعے پاکستان کو عالمی بساط پر وہ مقام دلا دیا ہے، جس کا تصور چند ماہ پہلے تک ناممکن سمجھا جا رہا تھا۔
اب پاکستان صرف ایک ملک نہیں، بلکہ عالمی امن کا وہ ناگزیر پل بن چکا ہے جس کے بغیر واشنگٹن اور تہران کا رابطہ ناممکن تھا۔
’سفارتکاری کا عظیم معجزہ‘: فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دنیا کو حیران کر دیا؛ نوبل انعام کی بازگشت

