تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

تاہم اس پوری سفارتی سرگرمی میں ایک پہلو جو عمومی طور پر پس منظر میں رہتا ہے، وہ وزارتِ اطلاعات و نشریات کا کردار ہے، جس کی قیادت عطاء اللہ تارڑ کر رہے ہیں۔ بظاہر یہ وزارت محض میڈیا مینجمنٹ تک محدود نظر آتی ہے، لیکن درحقیقت جدید سفارتکاری میں "نیرٹیو کنٹرول” اور "انفارمیشن ڈپلومیسی” بنیادی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں وزارتِ اطلاعات نے کلیدی کردار ادا کیا۔
اسلام آباد مذاکرات کے دوران عالمی میڈیا کی غیر معمولی توجہ پاکستان پر مرکوز رہی۔ ایسے میں ایک مربوط، شفاف اور مثبت بیانیہ پیش کرنا ناگزیر تھا۔ وزارتِ اطلاعات نے نہ صرف بین الاقوامی صحافیوں کے لیے میڈیا فیسیلیٹیشن سینٹر قائم کیا بلکہ معلومات کی بروقت فراہمی، بریفنگز اور بیانیہ سازی کے ذریعے پاکستان کو ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر پیش کیا۔ یہ اقدام محض انتظامی نہیں بلکہ اسٹریٹجک نوعیت کا تھا، کیونکہ عالمی رائے عامہ اکثر مذاکرات کے نتائج پر اثرانداز ہوتی ہے۔
میری رائے میں، عطاء تارڑ کی قیادت میں وزارتِ اطلاعات نے "سافٹ پاور” کو مؤثر انداز میں استعمال کیا۔ جہاں ایک طرف عسکری اور سفارتی قیادت پس پردہ مذاکرات کو آگے بڑھا رہی تھی، وہیں وزارتِ اطلاعات نے عالمی سطح پر اعتماد سازی کی فضا قائم کی۔ ایک متوازن بیانیہ، جس میں نہ کسی فریق کی جانبداری دکھائی گئی اور نہ ہی اشتعال انگیزی، پاکستان کی غیر جانبداری کو اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہوا۔
مزید برآں، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال نے اس عمل کو مزید مؤثر بنایا۔ فوری اپڈیٹس، ویڈیوز اور بریفنگز کے ذریعے نہ صرف پاکستانی عوام کو اعتماد میں لیا گیا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کا مثبت امیج ابھرا۔ یہ پہلو اس لیے اہم ہے کہ ماضی میں پاکستان کو اکثر غیر یقینی یا متنازعہ ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے، لیکن اس بار بیانیہ یکسر مختلف تھا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ عسکری اور سیاسی قیادت نے ان مذاکرات کو ممکن بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا، جیسا کہ عالمی رپورٹس میں بھی اس کا ذکر کیا گیا ہے ، مگر اس پورے عمل کو کامیاب بنانے کے لیے مؤثر ابلاغ ناگزیر تھا — اور یہی وہ خلا تھا جسے وزارتِ اطلاعات نے پُر کیا۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اسلام آباد مذاکرات صرف ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ "اطلاعاتی سفارتکاری” (Information Diplomacy) کی بھی ایک کامیاب مثال ہیں۔ عطاء تارڑ کی وزارت نے ثابت کیا کہ جدید دور میں جنگیں صرف میدان میں نہیں بلکہ بیانیے، میڈیا اور معلومات کے محاذ پر بھی لڑی جاتی ہیں — اور پاکستان نے اس محاذ پر بھی اپنی موجودگی منوائی ہے

