اسلام آباد :امریکا اور ایران کے درمیان سیز فائر کے بعد اہم مذاکرات آج بروز ہفتہ اسلام آباد میں ہونے جا رہے ہیں۔
اسلام آبادمذاکرات کے لیے ایران کے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں 70 سے زائد ارکان پر مشتمل ایرانی وفد جمعے کی رات اسلام آباد پہنچ چکا ہے جب کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد بھی پاکستان پہنچ گیا ہے۔ایئرپورٹ پر وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے علاوہ پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے ان کا استقبال کیا۔
اسی طرح اسلام آباد آمد پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی وفد کا استقبال کیا۔
یہ مذاکرات امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر 28 فروری کو کیے گئے حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے دوران طے پانے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کے پس منظر میں ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے رواں ہفتے کی گئی اپیل کے بعد فریقین کے درمیان عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی، جس کے بعد ہفتہ کو باضابطہ مذاکرات شیڈول کیے گئے ہیں۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ “نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ فریقین تعمیری انداز میں مذاکرات کریں گے، اور پاکستان کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ تنازع کے دیرپا اور پائیدار حل تک پہنچنے کے لیے اپنی سہولت کاری جاری رکھے گا۔”
دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے موقعے پر دارالحکومت میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ مرکزی شاہراہیں بند کر کے فوج، رینجرز اور بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعنیات کیے گئے ہیں۔

