واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جارحانہ تیور اپناتے ہوئے آخری وارننگ جاری کر دی ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک دھماکہ خیز پوسٹ میں ٹرمپ نے ایران کو صرف 48 گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس دوران کوئی معاہدہ نہ ہوا یا آبنائے ہرمز کو عالمی جہاز رانی کے لیے نہ کھولا گیا تو ایران پر ”قیامت ٹوٹ پڑے گی“۔
صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں ایران کو دیے گئے سابقہ دس دنوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا:
”یاد رکھیں وہ وقت جب میں نے ایران کو دس دن دیے تھے کہ یا تو معاہدہ کریں یا آبنائے ہرمز کھول دیں۔ اب وہ وقت ختم ہو رہا ہے۔ صرف 48 گھنٹے باقی ہیں، اس کے بعد ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔“
Donald J. Trump Truth Social 04:04.26 10:05 AM EST
Remember when I gave Iran ten days to MAKE A DEAL or OPEN UP THE HORMUZ STRAIT. Time is running out – 48 hours before all Hell will reign down on them. Glory be to GOD! President DONALD J. TRUMP
— Commentary Donald J. Trump Posts From Truth Social (@TrumpDailyPosts) April 4, 2026
واضح رہے کہ 27 مارچ کو ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایرانی توانائی کی تنصیبات پر کسی بھی ممکنہ حملے کو دس دن کے لیے معطل کر رہے ہیں تاکہ سفارت کاری کو موقع مل سکے، مگر اب وہ یہ مہلت ختم کرنے کے موڈ میں نظر آ رہے ہیں۔
ایک اور علیحدہ پوسٹ میں، جہاں صدر ٹرمپ امریکی معیشت اور محصولات (Tariffs) کے فوائد کا تذکرہ کر رہے تھے، انہوں نے اپنی بات کا اختتام ان معنی خیز الفاظ پر کیا:
”اس سب کے ساتھ ساتھ، ایک ایٹمی ایران سے نجات۔“
یہ جملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا حتمی ہدف صرف آبنائے ہرمز کھلوانا نہیں بلکہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے، چاہے اس کے لیے فوجی طاقت کا استعمال ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ”قیامت ٹوٹ پڑنے“ کی دھمکی سے مراد ایران کے جوہری مراکز، تیل کی تنصیبات اور اہم عسکری ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے ہو سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے پہلے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین کو متاثر کر رکھا ہے، جس پر امریکا کا صبر اب جواب دے رہا ہے۔

