واشنگٹن : ایران کے خلاف جاری جنگ کے فیصلہ کن اور حساس مرحلے پر امریکی محکمہ جنگ(پینٹاگون) میں ایک بڑا انتظامی اور عسکری بحران پیدا ہو گیا ہے۔ وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے غیر متوقع طور پر امریکی آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج سمیت تین اعلیٰ ترین جنرلز کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹا کر گھر بھیج دیا ہے۔
سی این این کے مطابق وزیرِ جنگ ہیگسیتھ نے جمعرات کے روز جن افسران کو فوری ریٹائرمنٹ اور برطرفی کا حکم دیا، ان میں درج ذیل افسر شامل ہیں:
جنرل رینڈی جارج: امریکی فوج کے 41ویں چیف آف اسٹاف (جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے اہم رکن)۔
میجر جنرل ولیم گرین جونیئر: چیف آف چیپلینز۔
جنرل ڈیوڈ ہوڈنے: کمانڈر آرمی ٹرانسفارمیشن اینڈ ٹریننگ کمانڈ۔
میٹنگ کے دوران فون کال اور برطرفی!
ذرائع کے مطابق جنرل رینڈی جارج ایک اہم میٹنگ میں مصروف تھے جب انہیں وزیرِ جنگپیٹ ہیگسیتھ کی فون کال موصول ہوئی، جس میں انہیں "فوری ریٹائرمنٹ” کا حکم سنایا گیا۔ اس اچانک فیصلے نے پوری فوجی قیادت کو ششدر کر دیا ہے، کیونکہ پینٹاگون کے دیگر اعلیٰ حکام کو بھی اس کا علم میڈیا پر آنے کے بعد ہوا۔
یہ بڑی پیش رفت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس خطاب کے محض ایک دن بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے ایران پر حملوں میں "شدت” لانے کا اعلان کیا تھا۔ اگرچہ ٹرمپ نے پہلے کہا تھا کہ یہ جنگ 2 سے 3 ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے، لیکن حالیہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ وائٹ ہاؤس اب فوجی قیادت میں بڑی تبدیلیوں کے ذریعے اپنی نئی حکمتِ عملی نافذ کرنا چاہتا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع نے فوج کے چیف آف سٹاف جنرل رینڈی جارج کی ریٹائرمنٹ کی تصدیق کر دی ہے۔پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ: ’جنرل رینڈی اے جارج فوری طور پر امریکی فوج کے 41ویں چیف آف سٹاف کے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔‘
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ برطرفیاں محض پیشہ ورانہ نہیں بلکہ پینٹاگون کے اندر جاری سیاسی کھینچا تانی کا نتیجہ ہیں۔ وزیرِ جنگہیگسیتھ اور آرمی سیکرٹری ڈین ڈرسکول کے درمیان تعلقات طویل عرصے سے کشیدہ ہیں، اور جنرل جارج کو ڈرسکول کا قریبی سمجھا جاتا تھا۔
اعلی ٰ امریکی افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ "یہ فیصلہ بالکل بھی سوچا سمجھا نہیں لگتا۔ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ کے دوران، جب فوج میزائل ڈیفنس سسٹم جیسے اہم ترین معاملات سنبھال رہی ہے، اپنے ٹاپ کمانڈر کو ہٹانا ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔


