واشنگٹن/ تہران : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر عالمی سیاست میں ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری ایک پیغام میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران میں فوجی کارروائیاں ختم کرنے کے لیے وہاں کی ایک "نئی اور زیادہ مناسب” حکومت کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے اور اس سلسلے میں پیش رفت "بہترین” ہے۔
مذاکرات کی خبر کے ساتھ ہی ٹرمپ نے ایران کو تاریخ کی ہولناک ترین دھمکی بھی دے ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر معاہدے میں کسی قسم کی تاخیر ہوئی یا آبنائے ہرمز کو فوری طور پر نہ کھولا گیا تو امریکا جاتے جاتے ایران کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ :
ایران کے تمام بجلی گھر اور تیل کے کنویں ملیا میٹ کر دیے جائیں گے۔
خارگ آئی لینڈ کو مکمل طور پر نیست و نابود کر دیا جائے گا۔
ایران میں کھارے پانی کو میٹھا بنانے والے (Desalination) پلانٹس کو بھی اڑا دیا جائے گا جنہیں اب تک دانستہ طور پر نہیں چھوا گیا۔
صدر ٹرمپ نے ان ممکنہ اقدامات کو ان امریکی فوجیوں کا "بدلہ” قرار دیا جو گذشتہ 47 سالوں کے دوران ایرانی پالیسیوں کی بھینٹ چڑھے۔
تہران کا ردِعمل: "مطالبات نامعقول ہیں”
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بغائی نے امریکی دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ براہِ راست کوئی بات چیت نہیں ہو رہی اور واشنگٹن کی جانب سے موصول ہونے والے مطالبات "حد سے زیادہ اور نامعقول” ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان میں ہونے والی ملاقاتیں ایک ایسے فریم ورک کا حصہ ہیں جو امریکہ نے خود بنایا ہے، ایران اس کا حصہ نہیں ہے۔
مارکو روبیو کی محتاط تصدیق
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک ٹی وی انٹرویو میں تصدیق کی کہ انتظامیہ مذاکرات کر رہی ہے، تاہم انہوں نے ان گروہوں کے نام بتانے سے گریز کیا جن سے رابطہ ہے تاکہ انہیں ایران کے اندر دیگر شدت پسندوں سے خطرہ لاحق نہ ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ "ہمیں اس امکان کے لیے تیار رہنا ہوگا کہ مذاکرات ناکام بھی ہو سکتے ہیں۔”
مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو جاتے جاتے ایران کو برباد، بنجر کرکے جائینگے ، ڈونلڈٹرمپ کی ہولناک دھمکی

