تحریر:میاں حبیب
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ ہمیں آپ کے جذبات کی قدر ہے ایران ہر حال میں امن قائم رکھنا چاہتا تھا اس کے لیے ایران نے ہر ممکن کوشش بھی کی لیکن ہمیں دوبار مذاکرات میں الجھا کر ہم پر حملہ کیا گیا اس کے بعد ہم تیسری بار ڈسے جانے کے لیے تیار نہیں اب جو ہو گا دیکھا جائے گا ہمیں اندازہ تھا کہ اسرائیل امریکہ حملے کی تیاریاں کر رہا ہے اس کے باوجود ہم نہیں چاہتے تھے کہ امریکہ کو کوئی بہانہ ملے لہذا ہم مذاکرات کر رہے تھے اور مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہو رہی تھی کہ امریکہ اور اسرائیل نے ہم پر حملہ کر دیا اس پر ثالثی کروانے والا عمان بھی حیران تھا کہ جب بات چیت آگے بڑھ رہی تھی تو پھر حملے کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا لیکن ہمیں دھوکہ دے کر ہم پر حملہ کیا گیا اب دباو اور دھمکیوں میں بات چیت ممکن نہیں اور نہ ہی اب امریکہ اور اسرائیل پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے ہمارے شہید رہبر باور کروا چکے تھے کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنانا چاہتا اگر ہمارا جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ ہوتا تو ہم پہلے ہی بنا چکے ہوتے یہ تو محض ایک بہانہ ہے ایران پر بلاجواز حملہ کیا گیا ہے جس میں جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے رہائشی عمارتوں کو تباہ کیا جا رہا ہے بچیوں کے سکول کو نشانہ بنا کر معصوم بچیوں کو شہید کر دیا گیا اور اب ایران کے تیل اور گیس کے ذخائر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے انسانی المیے کو جنم دیا جا رہا ہے انھوں نے واضح کیا کہ اب ایران بھی آخری حد تک جائے گا انھوں نے کہا کہ ہماری کسی ہمسایہ ملک سے کوئی دشمنی نہیں ہماری امریکہ اور اسرائیل کے علاوہ کسی سے کوئی عداوت نہیں ہم صرف ان ملکوں میں قائم امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جہاں سے ہم پر حملے ہو رہے ہیں انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور قازقستان پر ہم نے حملے نہیں کیے یہ اسرائیل کی کارستانی ہے جس سے وہ ابہام پیدا کرنا چاہتا ہے انھوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ خطے کے ممالک امریکی اڈے ختم کر دیں اور اپنی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہونے دیں انھوں نے کہا کہ ایرانی قوم کے حوصلے بلند ہیں ہم اپنی آذادی اور خود مختاری پر کوئی حرف نہیں آنے دیں گے امریکہ اور اسرائیل ایران کو جھکانا چاہتا ہے جو کہ ممکن نہیں پوری ایرانی قوم اکھٹی ہے اور ہرقسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے ہم مشرق وسطی میں امریکی اور اسرائیلی منصوبے کامیاب نہیں ہونے دیں گے قارئین ہم نے ایرانی قونصل جنرل کی گفتگو سے اندازہ لگایا کہ ایرانی قوم کے حوصلے بلند ہیں جبر ان کے ارادوں کو متزلزل نہیں کر پایا بلکہ جنگ نے انھیں فولاد کی طرح مضبوط کر دیا ہے اب امریکہ اور اسرائیل کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح عرب ممالک کو ایران کے ساتھ الجھا دیا جائے اس کے لیے جذباتی بھی کیا جا رہا ہے اور ایسے ابہام بھی پیدا کیے جا رہے ہیں کہ آپس میں لڑا دیا جائے اب تک تو خطے کے ممالک ہوشمندی سے کام لیتے ہوئے آپس میں الجھنے سے احتراز برت رہے ہیں لیکن جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے خطے کے ممالک کی معیشتیں تباہ ہو رہی ہیں توانائی کے ذخائر تباہ ہو رہے ہیں اور سارا نقصان اسلامی ممالک کا ہو رہا ہے ایسے میں اسلامی ممالک کو مل بیٹھ کر کوئی راہ نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے پاکستان کو چاہیے کہ وہ ترکیہ، ملائشیا اور سعودی عرب کی مشاورت سے اسلام آباد میں او آئی سی کا اجلاس بلوائے اور اس میں کوئی مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جائے تاکہ کسی بڑے المیے سے بچا جا سکے

