واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی مشہورِ زمانہ ‘ٹرانزیکشنل ڈپلومیسی’ کا رخ عرب دنیا کی جانب کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ اس بات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے بھاری مالی اخراجات عرب ممالک برداشت کریں۔
پیر کے روز واشنگٹن میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیرولین لیویٹ سے جب پوچھا گیا کہ کیا عرب ممالک اس جنگی مہم میں مالی مدد کے لیے آگے آئیں گے، تو انہوں نے کہا:
"میرا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ ان (عرب ممالک) کو جنگی اخراجات ادا کرنے کا کہنے میں کافی دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ ایک ایسا خیال ہے جس پر صدر ٹرمپ پہلے ہی غور کر رہے ہیں اور وہ آنے والے دنوں میں اس پر مزید سخت موقف اپنا سکتے ہیں۔”
"پہلے پیسہ، پھر تحفظ”: ٹرمپ کی پرانی پالیسی
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ ممکنہ مطالبہ ان کی ‘امریکہ فرسٹ’ پالیسی کا تسلسل ہے، جس کے تحت وہ سمجھتے ہیں کہ اگر امریکی افواج خطے کے تحفظ کے لیے لڑ رہی ہیں تو اس کا مالی بوجھ بھی ان اتحادیوں کو اٹھانا چاہیے جن کے مفادات اس جنگ سے جڑے ہیں۔
عرب ممالک کے لیے نیا چیلنج
اگر صدر ٹرمپ باضابطہ طور پر یہ مطالبہ کرتے ہیں، تو یہ خلیجی اور دیگر عرب ممالک کے لیے ایک بڑا سفارتی اور مالی چیلنج ہوگا۔ اس سے قبل بھی ٹرمپ اپنے پہلے دورِ اقتدار میں سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کو "تحفظ کے بدلے ادائیگی” کے مشورے دے چکے ہیں، لیکن جنگ کے براہِ راست اخراجات مانگنا صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
پریس سیکرٹری کے بیان سے واضح ہے کہ واشنگٹن اب اس جنگ کو صرف اپنی جیب سے لڑنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ آنے والے ہفتوں میں صدر ٹرمپ خود اس حوالے سے بڑے اعلانات کر سکتے ہیں، جو مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی نقشے پر دور رس اثرات مرتب کریں گے۔
"جنگ ہماری، بل تمہارا!” ٹرمپ کا عرب ممالک سے ایران جنگ کے اخراجات ادا کرنے کا مطالبہ

