آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت نے بازاروں اور قیمتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ برینٹ خام تیل پیر کی شروعاتی ٹریڈنگ میں 116 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ہے۔ جب 28 فروری کو جنگ شروع ہوئی تو برینٹ کروڈ صرف 70 ڈالر فی بیرل تھا۔ جنگ کے بعد سے قیمتوں میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
تہران کی جانب سے ممکنہ امریکی زمینی حملے کے خلاف سخت وارننگ اور ‘جنگ کے لیے تیار’ رہنے کے بیان نے عالمی معیشت میں کھلبلی مچا دی ہے۔ صدر ٹرمپ کے مذاکرات جاری رکھنے کے دعوؤں کے باوجود اتوار کے روز خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
تیل اور اسٹاک مارکیٹ کی صورتحال
برینٹ کروڈ: 2.47 فیصد اضافے کے ساتھ 107.92 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا۔
امریکی تیل (WTI): 2.94 فیصد اضافے کے بعد 102.57 ڈالر پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
وال اسٹریٹ: ڈاؤ فیوچرز میں 241 پوائنٹس کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی، جبکہ نیسڈیک اور S&P 500 بھی مندی کا شکار ہیں۔
یمن کے حوثی باغیوں نے، جنہوں نے ہفتے کے روز اسرائیل پر حملے کیے، اب باب المندب (بحیرہ احمر کی اہم گزرگاہ) کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ چوک پوائنٹ بند ہوتا ہے تو عالمی شپنگ لائنز مفلوج ہو کر رہ جائیں گی۔
قیمتیں فوری کم کیوں نہیں ہوں گی؟
معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ آج ختم بھی ہو جائے، تو پٹرول اور گیس کی قیمتیں فوری نیچے نہیں آئیں گی۔ اس کی بڑی وجہ قطر کی ‘راس لافان’ (دنیا کی سب سے بڑی گیس تنصیب) کو پہنچنے والا نقصان ہے، جسے ایران نے مارچ کے وسط میں نشانہ بنایا تھا۔ ان تنصیبات کی مرمت اور آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی میں مہینوں لگ سکتے ہیں
امریکا کی زمینی جنگ کی دھمکی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو پر لگ گئے

