نیویارک :ایک عام خیال ہے کہ گھر کے بڑے بچے پر ذمہ داریاں زیادہ، درمیانے پر کام کا بوجھ اور عیاشی تو چھوٹے کرتے ہیں لیکن کیتھرین کار کاکہنا ہے کہ یہ قسمت کا کھیل نہیں۔
نیوز و یک میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں معروف مصنفہ کیتھرین کار اپنی کتاب "Who’s the Favorite?” میں بتاتی ہیں کہ بہن بھائیوں کے درمیان آپ کا مقام آپ کی شناخت بنانے میں مدد تو دیتا ہے، لیکن یہ آپ کی تقدیر (Destiny) نہیں ہے۔
ماہرِ نفسیات الفرڈ ایڈلر کے مطابق بڑا بچہ (Firstborn): عام طور پر ذمہ دار اور بااعتماد ہوتا ہے، لیکن دوسرے بچے کی آمد پر خود کو ‘تخت سے محروم’ محسوس کرتا ہے۔
منجھلا بچہ (Middle Child): حالات کے مطابق ڈھلنے والا (Adaptable) ہوتا ہے، لیکن اکثر غیر محفوظ محسوس کر سکتا ہے۔
سب سے چھوٹا (Youngest): نڈر، پُرکشش اور خطرات مول لینے والا ہوتا ہے کیونکہ اسے کبھی ‘تخت’ سے ہٹائے جانے کا خوف نہیں ہوتا۔
شناخت کی جنگ (Sibling Differentiation)
بچے اکثر شعوری یا لاشعوری طور پر اپنے بہن بھائیوں سے بالکل الگ شناخت بناتے ہیں تاکہ وہ والدین کی نظر میں منفرد نظر آئیں۔ اگر بڑا بھائی ‘پڑھاکو’ ہے، تو چھوٹا شاید ‘کھیل کود’ یا ‘فنکاری’ میں نام بنانے کی کوشش کرے گا۔ یہ مقابلہ نہیں بلکہ اپنی جگہ بنانے کی تگ و دو ہے۔
وہ عوامل جو سب کچھ بدل دیتے ہیں:
کیتھرین کے مطابق صرف پیدائش کا نمبر ہی کافی نہیں، بلکہ یہ چیزیں بھی اثر انداز ہوتی ہیں:
عمر کا فرق: اگر دو بچوں میں 10 سال کا فرق ہو، تو چھوٹا بچہ ‘لاڈلے’ کے بجائے ‘اکلوتے بچے’ جیسی خصوصیات اپنا سکتا ہے۔
پسندیدہ بچہ (Favoritism): والدین کا کسی ایک بچے کی طرف جھکاؤ (چاہے وہ وقت، پیسہ یا نرمی کی صورت میں ہو) بہن بھائیوں کے تعلقات پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔
گھر کا ماحول: طلاق، علیحدگی یا نئے بہن بھائیوں کی آمد (Step-siblings) بھی ان روایتی کرداروں کو الٹ پلٹ کر دیتی ہے۔
کیتھرین کار کا مشورہ ہے کہ "بڑے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہمیشہ بچپن کے ان کرداروں میں قید رہیں۔ ہم اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ ان تلخ و شیریں رشتوں کو برابری کی دوستی میں بدل سکتے ہیں۔”
بڑا، منجھلا یا گھر کا لاڈلا؟ پیدائش کا ‘نمبر’ ہی آپ کی شخصیت کا اصل راز ہے؟

