تحریر:ملک محمد سلمان
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
چاند رات اور عید پر جس اے ٹی ایم سے بھی پیسے نکلوائے وہاں موجود بینک گارڈ کو عیدی کا لفافہ ضرور دیا ،گھر کے افراد کے علاوہ اگر کوئی عیدی کا حقدار ہے تو ایسے لوگ ہیں جو اپنے گھر اور خاندان سے دور رہ کر اپنی عید قربان کرکے رزق حلال کما رہے ہیں۔ اسی طرح چند اور مقامات پر ڈیوٹی پر مامور افراد کو عیدی دی۔ لاہور اور گاؤں دونوں جگہ گھریلو ملازمین اور محلے کے سکیورٹی گارڈ کو عیدی دی۔ رات کو دوستوں کے ساتھ کھانا کھانے کیلئے ریسٹوران کا رخ کیا تو وہاں بھی ویٹر کو روٹین سے زیادہ ٹپ بطور عیدی دی۔ ان تھوڑی تنخواہ والے ملازمین کو تھوڑی سی رقم بطور عیدی دیکر نیکی کی فوری قبولیت کا احساس ہوا۔ یقین کریں قبولیت کا احساس نماز، روزہ اور عبادات سے بھی زیادہ تھا، حقیقی سکون اور خوشی۔
نماز، روزہ اور عبادات لازم ہیں اور ریگولر کرتے بھی ہیں اس کے باوجود اللہ سے قبولیت کیلئے دعا گو بھی ہوتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کے ساتھ نیکی کرتے وقت پتا نہیں کیوں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ عبادات بھی ایسے اعمال سے ہی قبول کرے گا۔
بینک کے پریمئم، سگنیچر، انفینٹ اور ورلڈ کارڈ پر اچھا خاصا ڈسکاؤنٹ مل جاتا ہے، روٹین میں کسی نہ کسی بیکری سے ڈسکائونٹ پر بریڈ لیکر گاڑی میں رکھ لیتا ہوں جہاں کوئی کتا، بلی یا جانور نظر آتا ہے گاڑی آہستہ یا روک کر اسے کھلا دیتا ہوں، بے گھر و بے زبان جانوروں کو معمولی سا کھانا کھلا کر جو تسکین ملتی ہے اس کا کوئی حساب نہیں۔ ریسٹوران پر جاتا ہوں تو اگر کھانا بچ جائے تو پیک کروا کر خود راستے میں کسی نہ کسی کو کھلا دیتا ہوں ۔
فوڈ پانڈہ پر فوڈ ڈلیوری والے کیلئے ایڈوانس میں ٹپ کی رقم ایڈ کی ہوئی ہے۔
عید کی وجہ سے سارے ملازمین چھٹی پر تھے تو میں نے لاہور کے رہائشی ڈاگ ٹرینر کی ڈیوٹی لگائی تھی کہ زورو 🐕 کو روٹین ٹائم میں کھانا بھی کھلانا ہے اور جتنا زیادہ ممکن ہو ان کے ساتھ رہنا۔
میں 30رمضان کو گھر گیا تھا اور گزشتہ شب لاہور واپس آگیا تھا کہ کل تک ملازم آجائیں گے تو دوبارہ گھر چلا جائوں گا۔
’’ گولڈن ریٹریور ڈاگ‘‘ 🐕 اکیلے نہیں رہتے۔ پالتو جانور آپ کے ساتھ رہنے کے عادی ہوتے ہیں اس لیے آپ کا فرض ہے کہ انکو فیملی کی طرح ہی وقت اور عزت دیں۔
ہر عید پر نئے کپڑے پہنتے ہیں شاپنگ کرتے ہیں، عید آتی ہے اور گزر جاتی ہیں لیکن جس عید پر حقیقی خوشی ملی وہ 2005 کی عید ہے۔ اکتوبر2005 کے زلزلے میں اپنے گھر سے کمبل رضائیاں، کھانے کی اشیاء سمیت اچھا خاصاسامان لیا۔ ابو، امی، بہن بھائیوں سب کے نئے کپڑے اور جوتیاں زلزلہ زدگان کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور پڑھتا تھا تو اسلامی جمعیت طلبہ نے زلزلہ زدگان کی مدد کیلئے ’’عید کاروان‘‘ روانہ کرنا تھا۔ عید کاروان کیلئے بہت سارے طلبہ رضاکارانہ طور پر مدد کیلئے جارہے تھے ضلع قصور سے میں، جواد سلیم اور عرفان چوہدری بھی کاروان میں شامل ہوگئے۔ رمضان کے آخری پانچ روزے اور عید کے تینوں دن زلزلہ زدگان کی مدد میں گزارے۔
اپنے نئے کپڑے زلزلہ زدگان کو عطیہ کرکے خود پرانے کپڑوں کے ساتھ گڑھی حبیب اللہ بالاکوٹ آزاد کشمیر میں لوگوں کی مدد کرتے ہوئے عید گزاری، اس عید کی حقیقی خوشی کو آج بھی محسوس کرسکتا ہوں۔ حقیقی خوشی دوسروں کو خوشی دے کر ہی مل سکتی ہے۔
مختلف ہوٹلز اور کمیونٹی کلب میں ویٹر اور ورکرز کو انتہائی معمولی تنخواہ دی جارہی ہے لیبر ڈیپارٹمنٹ بے شرمی کی نیند سو رہا ہے۔ بے شرمو کرپشن کرکے لوٹتے رہو لیکن کم از کم مزدوروں کی بنیادی تنخواہ پر عملدرآمد تو کروا دو ۔
دیگر محکموں کی طرح محکمانہ کرپشن کرتے رہو لیکن مزدور کو اس کا حق دلوانے کیلئے فیکٹریز اور ہوٹلز کی چیکنگ بھی کرلیا کرو ۔
عید مبارک

