پشاور:خیبر پختونخوا کے ضلع اپر چترال میں ٹرافی ہنٹنگ کے دوران سنگین کوتاہی کا انکشاف ہوا ہے۔ آئی بیکس جانور کے شکار کے دوران شکاری نے تین سالہ بچے کا شکار کیا جس کے بعد محکمہ جنگلی حیات کی کوتاہی پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق 16 مارچ کو وائلڈ لائف عملے کی موجودگی میں ترجال بریپ کے علاقے مین آئی بیکس کا شکار ہوا مگر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مطلوبہ عمر کے جانور کے بجائے کم عمر جانور کو نشانہ بنایا گیا۔مقامی رہائشی اظہرحسین نے بتایا کہ ٹرافی ہنٹنگ کے تحت اصول و ضوابط کے ساتھ شکار کی اجازت ملتی ہے جس کے لیے پرمٹ حاصل کیا جاتا ہے۔ اس شکار کے تحت آئی بیکس کی افزائش نسل کے لیے بڑے عمر یعنی دس سال سے بڑے جانور کا شکار ہوتا ہے مگر حالیہ واقعہ کے بعد علاقہ مکینوں میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ کی شفاف انکوائری ہونی چاہیے تاکہ جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے ۔
مقامی شہریوں نے مطالبہ لیا کہ ٹرافی ہنٹنگ کے لیے پرمٹ جاری کرنے سے قبل شکاری کے نظر کا معائنہ کرنے کے ساتھ ساتھ نشانہ بازی کا امتحان لینا چاہیے تاکہ نشانہ خطا ہونے کے واقعات رونما نہ ہوں۔اپر چترال وائلڈ لائف کے رینج افسر منیر احمد کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ سراسر شکاری کی غلطی سے رونما ہوا ہے جس کا وائلڈ لائف عملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
’وائلڈلائف کی ذمہ داری شکاری کو جانور کی نشاندہی کرنا ہوتا ہے اور ممکنہ حد تک شکار کی رہنمائی کرنا ہوتا ہے، اس روز وائلڈ لائف نے شکار کی نشاندہی کی مگر شکاری سے نشانہ خطا ہوگیا اور گولی قریب جانور کو لگ گئی۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ واقعہ انسانی خطا کے باعث پیش آیا ہے۔ شکاری نے جان بوجھ کر نہیں کیا۔
محکمہ جنگلی حیات کی موجودگی میں قانون کی دھجیاں اڑ گئیں: چترال میں کم عمر آئی بیکس کا شکار

