واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کو ایران میں دنیا کے سب سے بڑے گیس فیلڈ جنوبی پارس پر اسرائیلی حملے کی پیشگی جانکاری نہیں تھی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اسرائیل دوبارہ ایران کے گیس فیلڈ پر حملہ نہیں کرے گا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے تہران کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر قطر کے توانائی ڈھانچے پر دوبارہ حملہ ہوا تو امریکا تہران کے خلاف سخت جوابی کارروائی کرے گا۔
Statement from President Trump on South Pars Gas Field: pic.twitter.com/YrjhDdGTxP
— The White House (@WhiteHouse) March 19, 2026
ایرانی گیس فیلڈ پر حملے کے بعد ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے حملے کے بعد کھلے عام ایسے "بے قابو نتائج” کی دھمکی دی جو پوری دنیا کو اپنی زد میں لے سکتا ہے۔ پٹرول اور گیس کی تنصیبات پر حملوں کے بعد ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل نے ایران میں ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کے ایک حصے کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے میں امریکا اور قطر ملوث نہیں تھے اور ان کو اس حملے کے بارے میں کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی۔
امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ "مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہوا، اسرائیل نے اس پر غصے میں آکر ایران میں ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کے نام سے مشہور ایک بڑی تنصیب پر پرتشدد حملہ کیا، جس کا ایک نسبتاً چھوٹا حصہ متاثر ہوا ہے۔ امریکا کو اس حملے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا، اور قطر کسی بھی طرح سے اس میں ملوث نہیں تھا، اور نہ ہی اس نے یہ حملہ کیا اور نہ ہی مجھے معلوم تھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔”
اسی کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے قطر پر دوبارہ حملہ کیا تو امریکا دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈ کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔ قطر پر ایران کے جوابی حملے کے بعد ٹرمپ نے بدھ کی رات سوشل میڈیا پر یہ دھمکی جاری کی۔

