تحریر:میاں حبیب
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
امریکا اسرائیل ایران جنگ کا منطقی انجام کیا ہوگا کسی کو پتہ نہیں یہ کیا رخ اختیار کر جائے کچھ نہیں کہا جا سکتا یہ جنگ کب تک چلے گی اس کا انجام کیا ہوگا اس بارے میں بھی کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی دنیا بھر کے جنگی ماہرین اور تجزیہ نکار بھی اس بارے کوئی حتمی رائے قائم نہیں کر پا رہے امریکا کے صدر خود گو مگو کا شکار ہیں دنیا کی سپر پاور کا سربراہ بھکلایا ہوا نظر آ رہا ہے اس کی گفتگو میں ربط نہیں رہا بظاہر اس کی حکمت عملی واضح دکھائی نہیں دیتی عالمی میڈیا کے سامنے اکثر بونگیاں مارتا دکھائی دیتا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا نے جو سوچا تھا وہ نہیں ہو رہا امریکی صدر کے ہاتھ پاوں پھول چکے ہیں اس کی حکمت عملی کارگر ثابت نہیں ہو رہی صورتحال یہ ہے کہ پورے مڈل ایسٹ سے امریکی سفارتکار بھاگ رہے ہیں امریکی کمپنیاں مڈل ایسٹ میں اپنا کاروبار ٹھپ کر کے محفوظ مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہیں ایران پورے مڈل ایسٹ میں امریکی و اسرائیلی اڈوں، کمپنیوں،بینکوں ،سفارت خانوں اور عمارتوں کو نشانہ بنا رہا ہے امریکا اور اسرائیل کی سوچ تھی کہ جب ایران دوسرے عرب ممالک پر میزائل یا ڈرون حملے کرے گا تو وہ ممالک بھی ایران پر جوابی حملے کریں گے لیکن ایسا ہوا نہیں عرب ممالک نے انتہائی دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس جنگ کو اپنی جنگ نہیں بنایا وہ اس کو امریکا اور اسرائیل کی پرائی جنگ سمجھ رہے ہیں اور انتہائی احتیاط کے ساتھ پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں مشرق وسطی میں افراتفری ضرور ہے ان ممالک کے اقتصادیات کا بہت بڑا نقصان ہو رہا ہے لیکن وہ امریکا کی جنگ کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں دوسری جانب امریکا اور اسرائیل تنہائی کا شکار ہو رہے ہیں امریکا اپنی ساکھ کھوتا جا رہا ہے اس کا بھرم ٹوٹ رہا ہے وہ دنیا کے سامنے ایکسپوز ہو رہا ہے یہ پہلی دفعہ ایسا ہو رہا کہ اس کے اتحادی اس کا ساتھ دینے سے انکاری ہیں امریکا تصور نہیں کر سکتا تھا کہ برطانیہ، نیٹو اور یورپی یونین اسے انکار کر دے گی صورتحال یہ ہے کہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی سیکورٹی کے لیے تعاون مانگا تھا فرانس، جرمنی، یونان، اٹلی، آسٹریلیا،چین،جاپان، کوریا نے تعاون سے انکار کر دیا ہے انھوں نے آبنائے ہرمز کے لیے اپنے جنگی بحری جہاز بھیجنے سے بھی انکار کردیا ہے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں خلیج جنگ کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین آبنائے ہرمز میں کسی آپریشن میں حصہ نہیں لے گی انھوں نے مشورہ دیا ہے کہ سفارت کاری بہترین راستہ ہے
برطانوی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ہم ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے آبنائے ہرمز کا کنٹرول حاصل کرنا اتنا آسان کام نہیں
جرمن وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے نمٹنے میں نیٹو کا کوئی کردار نہیں بنتا
امریکی صدر اس صورتحال سے سخت پریشان ہیں اس کا اظہار وہ اپنے گلے شکووں میں بھی کرتے نظر آتے ہیں کبھی وہ برطانیہ کے وزیراعظم کے رویے کی شکایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ برطانوی وزیر اعظم نے مایوس کیا ہے تو کبھی نیٹو کو احسان یاد کرواتے ہیں اور گلہ کرتے ہیں کہ ہم نے نیٹو پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں لیکن وہ ہمارے دفاع کے لیے موجود نہیں ،کبھی کہتے ہیں ہمیں کسی کی ضرورت نہیں اور اگلے ہی لمحے تعاون کرنے کی بات بھی کر دیتے ہیں امریکا جنگ چھیڑ کر پھنس گیا ہے اسرائیل نے اسے بری طرح پھنسا دیا ہے یہ جنگ امریکا کے لیے کمبل بن گئی ہے امریکا اس کمبل سے جان چھڑوانا چاہتا ہے لیکن اب کمبل جان نہیں چھوڑ رہا جنگ نے امریکا کو بری طرح بےنقاب کر دیا ہے اس کا سپرمیسی کا بھرم متاثر ہو رہا دنیا امریکا کا ساتھ چھوڑ رہی ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ امریکا کی سپرمیسی میں سوراخ پیدا ہو چکے ہیں دنیا کی بیزاری ظاہر کرتی ہے کہ وہ امریکا کی فضول جنگوں سے تنگ ہیں ایک طرف جہاں یہ خوش کن اقدام ہے کہ دنیا اپنے فیصلے کرنے میں آذاد ہو رہی ہے اور امریکا کی سپرمیسی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں وہاں یہ تشویشناک امر بھی ہے کہ امریکا کہیں اس بوکھلاہٹ میں اور اپنی سپرمیسی کا بھرم رکھنے کے لیے ایران کے خلاف کہیں کوئی انتہائی اقدام نہ اٹھا لے جوں جوں امریکا کی بےبسی میں اضافہ ہو رہا ہے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ بڑھ رہا ہے اللہ دنیا پر رحم فرمائے پوری دنیا تذبذب کا شکار ہے دنیا توانائی کے بحران کا شکار ہو رہی ہے جس سے دنیا کی معیشتیں ڈسٹرب ہو رہی ہیں پہلے ہی کرونا کے بعد ابھی تک معیشتیں مکمل طور پر بحال نہیں ہو پائی تھیں کہ مڈل ایسٹ کی جنگ نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے دنیا اس جنگ کی لپیٹ میں آ رہی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا دنیا امریکا پر دباو بڑھا کر اس کو جنگ بندی کی طرف لے کر آنے میں کامیاب ہوتی یا نہیں یا پھر امریکا اس دباو کو کسی خاطر میں لائے بغیر کھلواڑ کے نئے راستے کھول دیتا ہے صورتحال تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچ چکی ہے کوئی چھوٹی سی غلطی تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے دنیا زیادہ دیر تک اس صورتحال میں زندہ نہیں رہ سکتی جلد کوئی بڑا اقدام اٹھانا پڑے گا جس کے لیے دیکھو اور انتظار کرو


