Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      آرٹی فیشل انٹیلی جنس بے قابو، گوگل جیمنائی نے بھی تین کمپنیوں کے سسٹمز ہیک کر لیے

      مصنوعی ذہانت کا استعمال: امریکی فوج چین کے خلاف بڑی مشکل میں پھنستے پھنستے بچ گئی

      گیمنگ کی دنیا میں طوفان: ’جی ٹی اے 6‘ کے خصوصی ڈوئل سینس کنٹرولر کی رونمائی، قیمت اور لانچ کی تاریخ سامنے آ گئی

      گوتم اڈانی سے ایشیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز کس نے چھینا؟

      امریکا کے امیر ترین شخص ہونے کے ساتھ دنیا کے پہلے کھرب پتی ہونے کا اعزاز

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ڈاکٹر یا ڈاکو: کمیشن کے الزام، مہنگے ٹیسٹ اور سرکاری اسپتال سے نجی کلینک تک کا راستہ

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    سرکاری اسپتالوں کے باہر لمبی قطاریں، وارڈز میں بستر سے زیادہ مریض، ادویات کی کمی اور علاج کے لیے بے بس عوام ۔ مگر اسی نظام کے اندر ایک ایسا سوال بھی سر اٹھا رہا ہے جو نہ صرف ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے بلکہ پورے طبی ڈھانچے کی اخلاقی بنیادوں کو چیلنج کرتا ہے۔ حکومت کی پالیسی واضح ہے۔ سرکاری ڈاکٹروں کو Non-Practicing Allowance (NPA) اس شرط پر دیا جاتا ہے کہ وہ نجی پریکٹس نہیں کریں گے اور اپنی تمام پیشہ ورانہ توانائیاں سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے علاج کے لیے وقف رکھیں گے۔ اس الاؤنس کا مقصد یہی تھا کہ سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹر دستیاب ہوں اور عوام کو معیاری علاج مل سکے۔
    اگر ایک ڈاکٹر سرکاری خزانے سے NPA بھی وصول کرے اور ساتھ ہی نجی کلینک بھی چلائے تو اسے کیا کہا جائے؟ کیا یہ صرف قواعد کی خلاف ورزی ہے یا پھر عوام کے اعتماد کے ساتھ ایک سنگین مذاق؟ کئی شکایات میں یہ الزام سامنے آتا ہے کہ بعض مریضوں کو سرکاری اسپتالوں میں اس قدر مایوس کیا جاتا ہے کہ وہ مجبوراً نجی اسپتالوں کا رخ کریں۔ بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ اس مقصد کے لیے بعض پیرا میڈیکل عناصر بھی کردار ادا کرتے ہیں، جو مریضوں کو خوفزدہ کر کے نجی کلینک یا اسپتالوں کا راستہ دکھاتے ہیں۔ اگر ایسا ہو رہا ہے تو یہ صرف بدانتظامی نہیں بلکہ ایک بیمار انسان کی مجبوری کو منافع میں بدلنے کی افسوسناک مثال ہے۔ ایک واقعہ جو طبی حلقوں میں زیرِ بحث رہا، اس رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ ایشیا کے بڑے سرکاری طبی مراکز میں شمار ہونے والے Mayo Hospital کے سرجیکل وارڈ میں ایک مریض کو اپنڈکس کے آپریشن کے لیے تھیٹر لے جایا گیا۔ مریض نے خواہش ظاہر کی کہ اس کا آپریشن ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس درخواست پر پروفیسر نے سخت لہجے میں جواب دیا کہ وہ پیچیدہ سرجری کرتے ہیں، معمولی آپریشن ان کے دائرہ کار میں نہیں۔ مایوس مریض تھیٹر سے واپس چلا گیا۔ چند روز بعد یہی مریض ایک نجی اسپتال پہنچا۔ وہاں اسی پروفیسر کے نام پر بھاری فیس جمع کروا کر داخل ہوا۔ جب آپریشن تھیٹر میں وہی پروفیسر سامنے آ کر چیک کر رہے تھے تو مریض نے ان کا ہاتھ پکڑ کر یاد دلایا کہ سرکاری اسپتال میں تو آپ معمولی سرجری کو ہاتھ لگانے کے لیے تیار نہ تھے۔ یہ جملہ سن کر پروفیسر کے چہرے پر الجھن نمایاں ہو گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ سرجری تو کی گئی، مگر ساتھ ہی مریض سے معذرت اور رعایت بھی دی گئی۔ اسی نوعیت کی ایک اور شکایت میں کہا جاتا ہے کہ بعض وارڈز میں راونڈ کے دوران مالی طور پر مضبوط مریضوں کو اشاروں کنایوں میں نجی اسپتالوں کا راستہ دکھایا جاتا ہے۔ اگر ایسے واقعات حقیقت پر مبنی ہیں تو یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے نظام کے لیے ایک خطرناک اشارہ ہے۔
    طبی ماہرین کے مطابق ایک اور تشویشناک پہلو غیر ضروری ٹیسٹوں اور مخصوص لیبارٹریوں کی سفارشات کا معاملہ ہے۔ اگر کسی بھی ڈاکٹر کا کسی لیبارٹری یا فارمیسی سے مالی مفاد جڑا ہو تو یہ نہ صرف طبی اخلاقیات کے خلاف ہے بلکہ قانوناً بھی قابلِ گرفت ہو سکتا ہے۔ کیونکہ ایک مریض کے درد کو کاروبار میں بدل دینا انسانی ہمدردی کی روح کے منافی ہے۔تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔پاکستان میں ہزاروں ڈاکٹر ایسے بھی ہیں جو محدود وسائل، شدید دباؤ اور ناقص سہولیات کے باوجود دن رات مریضوں کی خدمت کر رہے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اس پیشے کی اصل ساکھ کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ اس لیے چند افراد کے طرزِ عمل کو پورے طبی شعبے پر مسلط کرنا ناانصافی ہوگی۔

    Related Posts

    روس اور یورپ کشیدگی: پیوٹن کی مغربی ممالک کو تنبیہ، پرامن بقائے باہمی کی تجویز

    نواز شریف سے محبت کی انوکھی مثال: 28 سال سے ملاقات کا منتظر کارکن، تمام بچوں کے نام بھی شریف خاندان پر رکھ دیے

    انگلینڈ نے آخری ٹی ٹوئنٹی میں سری لنکا کو 8 وکٹوں سے ہرا کر سیریز میں 0-3 سے کلین سویپ کر دیا

    مقبول خبریں

    روس اور یورپ کشیدگی: پیوٹن کی مغربی ممالک کو تنبیہ، پرامن بقائے باہمی کی تجویز

    نواز شریف سے محبت کی انوکھی مثال: 28 سال سے ملاقات کا منتظر کارکن، تمام بچوں کے نام بھی شریف خاندان پر رکھ دیے

    انگلینڈ نے آخری ٹی ٹوئنٹی میں سری لنکا کو 8 وکٹوں سے ہرا کر سیریز میں 0-3 سے کلین سویپ کر دیا

    پانچواں ٹی 20: جنوبی افریقہ کا کلین سویپ، زمبابوے کی ٹیم ہدف کے قریب پہنچ کر ناکام

    صرافہ بازار: سونے کے نرخ گر گئے، فی تولہ قیمت 4,60,236 روپے پر آ گئی

    بلاگ

    1122: سہولت جو موجود ہوتے ہوئے بھی نہ ہونے کے برابر ہے

    پروفیسر ملک احمد شیر کھارا — علم و تدریس کا روشن استعارہ

    ڈرون: آسمان کی وہ آنکھ جس نے جنگ اور زندگی بدل دی

    دیہاتی زندگی میں چوپال کی اہمیت

    خانۂ خدا بھی محفوظ نہیں!

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.