واشنگٹن / تہران :امریکی فوج کی ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ لرزہ خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ ایران-اسرائیل جنگ کے ابتدائی گھنٹوں میں جنوبی ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پر گرنے والا میزائل دراصل ایک امریکی ٹوما ہاک (Tomahawk) میزائل تھا۔
ابتدائی تحقیقاتی نتائج کے مطابق، یہ واقعہ 28 فروری کو جنگ کے آغاز پر پیش آیا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ اسکول جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا تھا، بلکہ ہدف سے متعلق پرانے اور غلط ڈیٹا (Outdated Targeting Data) کی وجہ سے میزائل اپنے اصل فوجی ہدف کے بجائے اسکول کی عمارت پر جا گرا۔
ایک معروف امریکی اخبار کی رپورٹ میں پینٹاگون کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تحقیقات میں اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اس حملے کی تمام تر ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے۔ رپورٹ میں اس واقعے کو ایک "ٹیکنالوجی کی ناکامی اور انسانی غلطی کا مجموعہ” قرار دیا گیا ہے، جس نے معصوم بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا۔
ایران کے جنوبی علاقے میناب میں جب یہ میزائل اسکول سے ٹکرایا، تو وہاں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ اس وقت ایران کی جانب سے اسے امریکی جارحیت قرار دیا جا رہا تھا، تاہم اب خود امریکی عسکری تحقیقات نے اس کی تصدیق کر دی ہے۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اعتراف کے بعد ٹرمپ انتظامیہ پر بین الاقوامی دباؤ میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ اعتراف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں جنگ بندی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ماہرینِ سیاست کا ماننا ہے کہ ایک سویلین تعلیمی ادارے پر میزائل گرنا "جنگی جرائم” کے زمرے میں آ سکتا ہے، اور امریکا کی جانب سے اسے ‘تکنیکی غلطی’ قرار دینا تہران کے لیے شاید کافی نہ ہو۔

