اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان مشرف زیدی نے بدھ کو امریکی نشریاتی ادارے بلومبرگ کو بتایا کہ خلیجی ریاستوں پر ایرانی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے پر پاکستان ’چاہے کچھ بھی ہو‘ سعودی عرب کی حمایت کے لیے تیار ہے۔
مشرف زیدی نے بلومبرگ ٹی وی کو ایک انٹرویو میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ سکیورٹی شراکت داری پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد جب بھی ضرورت پڑے گی ریاض کی مدد کے لیے آئے گا۔
As the Iran conflict escalates, Pakistan’s longstanding defense pact with Saudi Arabia is under renewed scrutiny. On Insight with @haslindatv, Mosharraf Zaidi, the Pakistani Prime Minister’s Spokesperson for Foreign Media, stresses that Pakistan’s support for Riyadh is… pic.twitter.com/Jqxov4n65d
— Bloomberg (@business) March 11, 2026
گذشتہ سال ستمبر میں اسلام آباد اور ریاض کے درمیان طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے سے دونوں مسلمان ملکوں کے درمیان سکیورٹی شراکت داری کو مزید تقویت ملی ہے۔
سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے میں اعلان کیا گیا کہ ’کسی ایک ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت سمجھا جائے گا۔‘
مشرف زیدی نے کہا کہ ’اس میں کوئی سوال نہیں ہے کہ ہم سعودی عرب کی مدد کے لیے آئیں گے، چاہے کچھ بھی ہو اور کب بھی ہو۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی معاہدے سے پہلے بھی دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کے اصول پر کام کیا ہے۔
مشرف زیدی کا کہنا تھا کہ پاکستان اس تنازعے کو پورے خطے میں مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارتی طور پر بھی کام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا کر رہا ہے کہ معاملات ایسے نہ پہنچیں جہاں اس کا کوئی قریبی ساتھی مزید تنازعات میں الجھ جائے جو ممکنہ طور پر خطے میں استحکام اور خوشحالی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘
مشرف زیدی نے مزید کہا کہ سعودی عرب نے پاکستان کے تیل اور ڈیزل کی سپلائی کو سپورٹ کرنے کے انتظامات کیے ہیں کیونکہ اس بحران نے ایندھن کی عالمی قیمتوں کو بلند کر دیا ہے، جو درآمدات پر منحصر جنوبی ایشیا کی معیشت کے لیے ایک چیلنج ہے۔
افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ جھڑپوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مشرف زیدی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کا کابل کے ساتھ کوئی تنازع نہیں ہے۔
اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میں کہوں گا کہ پاکستان کا تنازع افغانستان میں طالبان رجیم کے ساتھ ہے، جو طالبان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں اور مدد فراہم کر رہی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ طالبان دہشت گرد پاکستان میں سکول کے بچوں، مسجدوں کو جانے والوں، پاکستان کی خواتین خانہ، ماؤں اور بچوں، فوجیوں اور پولیس والوں پر حملے کرتے رہے ہیں۔‘
پاکستانی وزیراعظم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک طالبان رجیم اور طالبان دہشت گردوں کے درمیان واضح طور پر تعلق ختم نہیں ہو جاتا۔‘

