تہران :ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اس تنازع کے حوالے سے ’کچھ ممالک‘ نے ثالثی کی کوششیں شروع کر دی ہیں، تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ مصالحت کرنے والوں کو جنگ شروع کرنے والوں سے بات کرنی چاہیے، ہم خطے میں دیرپا امن کے لیے پرعزم ہیں، ثالِثی کرنے والوں کو ان لوگوں سے بات کرنی چاہیے جنہوں نے ایرانی عوام کو کم تر سمجھا اور اس تنازع کو بھڑکایا۔
جمعے کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ موجودہ صورت حال کے پیشِ نظر کچھ ممالک کی جانب سے تنازع کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں شروع کی گئی ہیں۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی اقدامات کی حمایت کرتا ہے، اس کے ساتھ یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ ایران اپنی خود مختاری اور قومی سلامتی کے دفاع میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ثالثی کرنے والے ممالک کو ان لوگوں سے بھی نمٹنا چاہیے جنہوں نے اس تنازع کو بھڑکایا تاہم ایران اپنی خود مختاری کے دفاع میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں دکھائے گا۔
ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ کچھ لوگوں نے یہ سمجھا تھا کہ وہ ایرانی عوام کو کمزور سمجھتے ہوئے دباؤ ڈال سکیں گے تاہم ایران اپنی خود مختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
اسرائیل امریکا جنگ کے خاتمے کےلئے ثالثی کی کوششیں، ایرانی صدر مسعود پزشکیاں کا انکشاف

