صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے اپر کوہستان میں سرکاری محکمے ’سول اینڈ ورکس‘ سے جڑے 40 ارب روپے سے زیادہ مالیت کے ایک سکینڈل میں پلی بارگین کی درخواست منظور ہونے پر احتساب عدالت نے ایک اور ملزم کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
سماعت کے دوران عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) پہلے ہی ملزم کی پلی بارگین کی درخواست منظور کر چکے ہیں۔
ملزم کے وکیل بیرسٹر حسیب پیرزادہ نے عدالت سے استدعا کی کہ پلی بارگین کی منظوری کو برقرار رکھتے ہوئے ملزم کو رہا کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد اس کرپشن کیس میں ملزم محمد ایوب کی رہائی کا حکم جاری کر دیا۔
واضح رہے کہ محمد ایوب 40 ارب روپے مالیت کے کوہستان میگا کرپشن سکینڈل میں شریک ملزم تھے۔
اس کیس میں پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحقیقات حتمی مراحل میں ہیں۔ مقدمے میں گرفتار کیے گئے 30 ملزمان میں سے اب تک دو کو رہا گیا ہے جن کی رہائی پلی بارگین کے ذریعے ممکن ہوئی ہے۔
اس سے قبل جنوری 2026 میں نیب حکام کے مطابق سول اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کے سابق ڈرائیور ممتاز نے چار ارب روپے کی پلی بارگین کی درخواست چیئرمین نیب کو دی تھی جو منظور کر لی گئی تھی۔
پھر احتساب عدالت نے پلی بارگین کی توثیق کرتے ہوئے ڈرائیور ممتاز کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس مقدمے کے مرکزی ملزم قیصر اقبال سول اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ میں بطور کلرک کام کرتے تھے۔ نیب حکام کے بقول ممتاز اُن کے ’فرنٹ مین‘ تھے اور مرکزی ملزم نے ان کے نام پر ’بہت ساری جائیدادیں خرید رکھی تھیں۔‘
40 ارب کوہستان کرپشن اسکینڈل، پلی بارگین درخواست منظور ایک اور ملزم رہا

