واشنگٹن: جن کو ایران کی قیادت سونپنا چاہتے تھے مر چکے ، اگر خامنہ ای جیسا ہی شخص پھر آگیا تو یہ بدترین نتیجہ ہوگا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اوول آفس میں خطاب
منگل کو اوول آفس سے خطاب کرتے ہوئے، ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے معزول شاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی کوئی ایسے شخص نہیں ہیں جنھیں ان کی انتظامیہ نے ایران کی قیادت سپرد کرنے کے لیے غور کیا ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ، ہمارے ذہن میں ایران کی قیادت کے قابل لوگ اب مر چکے ہیں۔ ٹرمپ نے خدشہ ظاہر کیا کہ خامنہ ای کی طرح کوئی اور شخص ایران پر قبضہ کر لے گا جو کہ ہم نہیں چاہتے۔
امریکی صدر کاکہنا ہے کہ اگر موجودہ کارروائیوں کے بعد ایران میں کوئی ایسا رہنما آ گیا جو سابق قیادت جیسا ہی ہو تو یہ بدترین نتیجہ ہوگا، چاہتے ہیں ایران میں ایسی قیادت سامنے آئے جو ملک کو عوام کے مفاد میں آگے لے جائے اور جہاں آزادی اظہار رائے ہو، آمریت و جبر نہ ہو۔
امریکی صدر نے ایرانی عوام کو خبردار کیا کہ تاحال بمباری کا سلسلہ جاری ہے اس دوران سڑکوں پر احتجاج کے لیے نہ نکلیں۔
ایسے حالات میں عوام کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور یہ وقت احتیاط کا ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں قومی قیادت کے لیے ایران میں مقیم کوئی شخصیت ہی زیادہ موزوں ہو سکتی ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے تناظر میں سخت ترین موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی عسکری قیادت اور دفاعی صلاحیتیں مفلوج ہو چکی ہیں اور اب مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے۔
امریکی صدر نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران کا فضائی دفاع، فضائیہ، بحریہ اور اعلیٰ فوجی قیادت ختم ہو چکی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’’وہ اب بات چیت کرنا چاہتے ہیں، لیکن میں نے کہہ دیا ہے کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے‘‘۔انہوں نے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ کے پاس ہتھیاروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور وہ ایک طویل جنگ لڑنے اور بڑی فتح حاصل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

