واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ نے جنگ کے باوجود ایران سے ایرانی امریکن شہریوں کی ڈی پورٹیشن کے حوالےسے اہم معاہدہ کرلیا۔
امریکی خبر رساں ادارے کی جانب سے حاصل کی گئی عدالتی دستاویزات نے ایک غیر معمولی اور سنسنی خیز انکشاف کیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جاری شدید فوجی تنازع اور جنگی حالات کے باوجود تہران حکومت کے ساتھ بیک چینل (خفیہ) سفارتی رابطے برقرار رکھے تاکہ امریکہ میں مقیم ایرانی شہریوں کی ان کے وطن واپس بے دخلی کو ممکن بنایا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق، امریکہ میں حراست میں لیے گئے کم از کم 12 ایرانی شہریوں کو باقاعدہ اطلاع دے دی گئی ہے کہ انہیں اگلے چند دنوں میں (جن میں سے کچھ کو اتوار کے روز ہی) واپس ایران ڈی پورٹ کیا جا سکتا ہے۔
ڈی پورٹ کیے جانے کے اس فیصلے کے بعد شدید خوف اور ذہنی دباؤ کے باعث حراست میں لیے گئے ایک ایرانی شہری نے خودکشی کی کوشش کی، جسے فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔
اس انکشاف نے امریکی خارجہ پالیسی کے ایک بڑے تضاد کو نمایاں کر دیا ہے۔ ایک طرف واشنگٹن ایران کے خلاف فوجی آپریشن اور سخت کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ دوسری طرف انہی دنوں میں شہریوں کی بے دخلی پر تہران کے ساتھ خفیہ مذاکرات جاری تھے۔
قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس دوہرے معیار اور ایرانی تارکینِ وطن کی حفاظت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے
جنگ کے باوجود خفیہ مذاکرات: ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی شہریوں کی بے دخلی کے لیے تہران کے ساتھ خفیہ ڈیل کر لی!

