تحریر :رانا افضل رزاق ایڈووکیٹ
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
ریاست کی بنیاد انصاف پر استوار ہوتی ہے، اور انصاف کی مؤثر فراہمی ایک آزاد اور بااختیار عدالتی نظام سے مشروط ہے۔ اس نظام کا بنیادی ستون وکلاء برادری ہے، جو شہریوں کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔ مگر موجودہ قانونی پیش رفت نے ایک سنجیدہ آئینی سوال کو جنم دیا ہے۔
حالیہ نافذ کردہ Punjab Protection of Ownership of Immovable Property Act, 2025 میں دفعہ 8 کی ذیلی دفعہ (7) کے تحت ایک واضح ممانعتی (refraining) شق شامل کی گئی ہے، جس کے مطابق معزز ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی (Dispute Resolution Committee) کے روبرو وکلاء کی نمائیندگی/ پیش ہونے پر قدغن عائد کی گئی ہے۔ یہ شق بظاہر تنازعات کے فوری اور سادہ حل کی نیت سے وضع کی گئی ہو، مگر اس کے عملی اور آئینی مضمرات نہایت گہرے اور تشویشناک ہیں۔
آئینِ پاکستان کے تحت، بالخصوص Constitution of Islamic Republic of Pakistan کے آرٹیکل 4 اور آرٹیکل 10-A ہر شہری کو قانون کے مطابق سلوک اور منصفانہ ٹرائل کا ناقابلِ تنسیخ حق دیتے ہیں۔ منصفانہ سماعت کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ فریقین کو اپنی مرضی کے وکیل کے ذریعے مؤثر نمائندگی حاصل ہو۔ جب کسی شہری کو ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی جیسے فورم پر وکیل کے ذریعے پیش ہونے سے روکا جائے تو یہ دراصل اس کے حقِ دفاع اور مساوی قانونی تحفظ کو محدود کرنے کے مترادف ہوگا۔
مزید برآں، ایک ایسے معاشرے میں جہاں بڑی تعداد قانونی باریکیوں سے ناواقف ہے، وکلاء کی عدم موجودگی انصاف کے حصول کو محض رسمی کارروائی بنا سکتی ہے۔ جائیداد کے تنازعات عموماً پیچیدہ حقائق، دستاویزی شہادت اور قانونی نکات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان معاملات میں غیر نمائندہ فریق کمزور پوزیشن میں آ سکتا ہے، جو کہ انصاف کے بنیادی تصور کے منافی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی قانونی معاونت کو منصفانہ سماعت کا لازمی جزو تسلیم کیا گیا ہے۔ کسی بھی انتظامی یا نیم عدالتی فورم پر وکلاء کی پیشی پر کلی پابندی عائد کرنا بین الاقوامی اصولِ انصاف اور قانونی پیشہ کی آزادی سے ہم آہنگ نہیں سمجھا جاتا۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ وکالت محض روزگار نہیں بلکہ آئینی خدمت ہے۔ وکلاء کو ایسے فورمز سے یکسر خارج کرنا نہ صرف شہریوں کے حقوق پر اثر انداز ہوگا بلکہ وکلاء کی پیشہ ورانہ آزادی اور معاشی استحکام پر بھی منفی اثر ڈالے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ دفعہ 8 کی ذیلی دفعہ (7) پر ازسرِنو غور کیا جائے تاکہ تنازعات کے فوری حل کے مقصد کو برقرار رکھتے ہوئے آئینی تقاضوں، بنیادی حقوق اور منصفانہ نمائندگی کے اصولوں کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔ انصاف کا راستہ سادہ ضرور ہونا چاہیے، مگر یکطرفہ نہیں۔ کیونکہ جب نمائندگی محدود ہو جائے تو انصاف بھی محدود ہو جاتا ہے۔


