اسلام آباد :پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز پیر کو مندی کا رجحان برقرار رہا اور کاروبار کے اختتام تک 100 انڈیکس میں 5478 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں گذشتہ کئی دنوں سے مندی کا رجحان رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لسٹڈ کمپنیوں کی اعلان کیا ہے کہ مالیاتی نتائج میں توقع سے کم گروتھ اور منافع متوقع ہے۔
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 5478 پوائنٹس کی گراوٹ آئی ہے۔ یہ تاریخ کی چوتھی اور رواں سال کی تیسری سب سے بڑی مندی ہے۔
’بڑی گراوٹ کی کئی وجوہات پیں۔ ایک بڑے وجہ جیو پولیٹیکل صورتحال ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور معاملات ابھی تک مثبت حل کی طرف جاتے دکھائی نہیں دے رہے۔ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے۔ اگر ایران پر حملہ ہوا تو اس کے اثرات پاکستان پر زیادہ گہرے پڑیں گے جس کی وجہ سر مارکیٹ نے ری ایکشن دکھایا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیرف کے خلاف امریکی سپریم کورٹ کےفیصلے اور ٹرمپ کا دوبارہ ٹیرف کے اعلان نے سرمایہ کاروں کو محتاط رویہ اختیار کرنے کی طرف مائل کیا ہے۔ ٹیرف میں پاکستان کی خطے میں برتری تھی اور اسی بنیاد پر پالیسیز بن رہی تھیں۔ ٹیرف کے حوالے سے غیر یقینی نے مارکیٹ پر منفی اثر ڈالا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بڑی کمپنیوں کے نتائج آئے ہیں جو کہ توقعات سے کم ہیں۔ خصوصی طور پر فرٹیلائزر سیکٹر کی پرفارمنس اچھی نہیں آئی ہے۔ فرٹیلائزرز کا سٹاک ایکسچینج میں بڑا شئیر ہے۔ اسی وجہ سے آج مارکیٹ میں شئیرز کی فروخت غالب رہی ہے۔
ان کے مطابق ایک غیر ملکی بڑی کمپنی کی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں اچھی ہولڈنگ تھی۔ اس کمپنی نے بھی اپنے تمام شئیرز فروخت کیے ہیں۔

