لندن:برطانیہ کے شاہ چارلس کے چھوٹے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وہ اپنے عہدے کے غلط استعمال کے شبے میں زیر حراست ہیں تاہم پولیس کی جانب سے ان پر عائد کردہ الزامات کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔
پولیس کے مطابق سابق شہزادے کی نورفوک اور برکشائر میں واقع رہائش گاہوں پر تلاشی جاری ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ ہفتوں کے دوران شاہی خاندان پر (سابق شہزادے) اینڈریو سے متعلق دباؤ بڑھ رہا تھا کیونکہ اُن کے جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات ایک بار پھر اُس وقت زیرِ بحث آئے جب متاثرہ خاتون ورجینیا جوفرے کی بعد از مرگ یادداشتیں شائع ہوئیں۔
اگرچہ اینڈریو کئی بار ان الزامات کی تردید کر چکے ہیں جن کا ذکر پیلس کے بیان میں بھی کیا گیا تاہم گذشتہ برس اکتوبر کے اوائل میں 2011 کی ایسی ایم میلز منظر عام پر آئی تھیں، جن کے مطابق اینڈریو نے دوستی ختم ہونے کے دعوے کے کئی ماہ بعد ایپسٹین سے رابطہ کیا تھا۔
اس کے بعد بکنگھم پیلس نے کہا تھا کہ شاہ چارلس کے چھوٹے بھائی اینڈریو سے ’شہزادے‘ کا خطاب اور ونڈسر محل میں انھیں دی گئی شاہی رہائش گاہ ’رائل لاج‘ واپس لیے جا رہے ہیں۔
بکنگھم پیلس کے ذرائع نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ’کتاب کی اشاعت کے نتیجے میں ان کے لیے ’آگے مزید تکلیف دہ دن‘ ثابت ہو سکتے ہیں، جس سے شہزادہ اینڈریو کے کردار پر مزید سوالات اٹھیں گے۔
شہزادہ اینڈریو نے اعلان کیا تھا کہ وہ رضاکارانہ طور پر ڈیوک آف یارک سمیت اپنے القابات استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ یہ اعزاز انھیں ان کی والدہ ملکہ الزبتھ دوم کی طرف سے دیا گیا تھا۔
وہ ’آرڈر آف دی گارٹر‘ کی رکنیت بھی چھوڑ رہے ہیں۔ برطانیہ میں بہادری کا یہ سب سے قدیم اور سب سے سینیئر آرڈر ہے۔
اپنے بیان میں انھوں نے مزید کہا کہ ’میں اپنے اوپر عائد کیے گئے الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہوں۔‘

