سیول: جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے سابق صدر یون سک یول کو ریاست کے خلاف بغاوت کی منصوبہ بندی کرنے کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ 65 سالہ سابق صدر پر دسمبر 2024 میں ملک میں ناکام مارشل لاء لگانے اور فوجی حکمرانی مسلط کرنے کی کوشش کا الزام ثابت ہو گیا ہے۔
چھ گھنٹے کا مارشل لاء اور اس کے اثرات
واضح رہے کہ دسمبر 2024 میں یون سک یول کی جانب سے جاری کردہ مارشل لاء کا حکم محض چھ گھنٹے برقرار رہا تھا، لیکن ان چند گھنٹوں نے پورے ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔
اس اقدام نے اس وقت کی حکومت کو مفلوج کر دیا اور ملک میں شدید انتظامی بحران پیدا کر دیا۔
اس ناکام تجربے کی قیمت ان کی جماعت کو اگلے انتخابات میں عبرتناک شکست کی صورت میں چکانی پڑی۔
یون سک یول کی سزا کے موقع پر سیول کی عدالت کے باہر شدید تناؤ دیکھا گیا۔ ایک طرف ان کے مخالفین اس فیصلے کا جشن منا رہے ہیں، تو دوسری طرف سابق صدر کے حامیوں کی بڑی تعداد عدالت کے باہر جمع ہے جو اس فیصلے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ اس واقعے نے جنوبی کوریا کے معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔
یون سک یول پہلے ہی مارشل لاء کے حکم سے متعلق ایک اور کیس میں قید کاٹ رہے ہیں، تاہم موجودہ سزا نے ان کے سیاسی مستقبل پر ہمیشہ کے لیے مہر لگا دی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق سابق صدر کو اسی معاملے سے جڑے مزید دو مقدمات کا بھی سامنا ہے جن کی سماعتیں ابھی باقی ہیں۔
جنوبی کوریا: سابق صدر یون سک یول کو "بغاوت” کے جرم میں عمر قید ، سیاسی منظر نامے میں بھونچال

