واشنگٹن/تہران: مشرق وسطیٰ ایک بار پھر بڑے پیمانے پر جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی کے واضح اشارے کے بعد وائٹ ہاؤس نے تہران کو متنبہ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا ہی اس کے لیے ‘دانشمندانہ’ راستہ ہوگا، ورنہ نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے پریس کانفرنس میں دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ اپنی انتظامیہ کے ساتھ ایران کو میز پر لانے کے لیے پرعزم ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر بحر ہند میں واقع اسٹریٹجک ڈیاگو گارسیا ایئربیس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر تہران معاہدے پر راضی نہ ہوا تو اس اڈے کو ایران کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔
امریکی میڈیا (وال اسٹریٹ جرنل اور سی بی ایس) کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایسے فوجی منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے جو ایران کو "زیادہ سے زیادہ نقصان” پہنچانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں میں شامل ہیں:
سیاسی و عسکری قیادت کو نشانہ بنانا: ایرانی رہنماؤں کی بڑی تعداد کو ختم کرنے کی تجویز۔
حکومت کی تبدیلی: ایران میں موجودہ نظام کا تختہ پلٹنے کے امکانات پر غور۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کسی بھی قیمت پر ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا۔
اگرچہ عمان کی ثالثی میں جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور ہوا ہے، لیکن تاحال کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران نے مستقبل کے مذاکرات کے لیے "رہنما اصول” تیار کر لیے ہیں، تاہم امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ ایران نے ابھی تک واشنگٹن کی ‘سرخ لکیروں’ (Red Lines) کو تسلیم نہیں کیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے تہران میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ کے حامی نہیں ہیں، لیکن ایران اپنی تذلیل برداشت کرے گا اور نہ ہی دباؤ میں سر جھکائے گا۔ ایران نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے معائنہ کاروں کو ان مقامات تک رسائی دینے سے بھی انکار کر دیا ہے جن پر حال ہی میں حملے کیے گئے تھے۔
ذرائع کے مطابق امریکی فوج اس ہفتے کے آخر (سنیچر) تک حملے کے لیے مکمل طور پر تیار ہو جائے گی، تاہم حتمی فیصلہ صدر ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے جو اس وقت حملے کے سیاسی اور عالمی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔۔”
ایران کے پاس معاہدے کے لیے وقت کم ہے، امریکی فوج حملے کے لیے تیار: وائٹ ہاؤس کی آخری وارننگ

