اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ اور چیئرمین پی سی بی سینیٹر محسن نقوی نے پاکستان کے قومی کھیل ہاکی کو شدید بحران سے نکالنے کے لیے اہم اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ ہاکی فیڈریشن کے صدر نہیں بن رہے، تاہم قومی کھلاڑیوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور موجودہ مسائل کے حل تک ان کی بھرپور مالی و انتظامی مدد کی جائے گی۔
لاہور۔ چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی سے پاکستان ہاکی پلئیرز کی ملاقات pic.twitter.com/DQ73aL0uaj
— PCB Media (@TheRealPCBMedia) February 19, 2026
کئی روز سے جاری قیاس آرائیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے سینیٹر محسن نقوی نے تصدیق کی کہ ان کا ارادہ پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF) کا عہدہ سنبھالنے کا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا:
"میرا مقصد عہدہ لینا نہیں بلکہ ہاکی کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے۔ جب تک فیڈریشن کے اندرونی معاملات اور حالیہ بحران ختم نہیں ہو جاتا، ہم کھلاڑیوں کی ہر ممکن مدد جاری رکھیں گے۔”
محسن نقوی نے اس بات پر زور دیا کہ ہاکی کھلاڑیوں کے واجبات، تربیتی کیمپوں کے اخراجات اور بین الاقوامی دوروں کے حوالے سے درپیش مالی مشکلات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔
چیئرمین پی سی بی کی حیثیت سے محسن نقوی ہاکی کے لیے کرکٹ کے انفراسٹرکچر اور وسائل کو استعمال میں لانے کے امکانات پر بھی غور کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کھلاڑیوں کا معاشی تحفظ ہماری ذمہ داری ہے تاکہ وہ میدان میں پوری توجہ کے ساتھ پرفارم کر سکیں۔
انہوں نے فیڈریشن کے دھڑے بندیوں کا شکار ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی ایک گروپ کے بجائے صرف ‘پاکستان ہاکی’ کا ساتھ دیں گے۔
کھیلوں کے مبصرین اور سابق اولمپینز نے محسن نقوی کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہاکی کو اس وقت کسی عہدیدار کی نہیں بلکہ مضبوط مالی سہارے کی ضرورت ہے، اور محسن نقوی کی شخصیت اس بحران کو ٹالنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
قبل ازیں پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کے صدر طارق بگٹی نے عہدے سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کر دیا۔ مستعفی ہونے سے قبل انہوں نے قومی ہاکی ٹیم کے کپتان عماد شکیل بٹ پر دوسال کی پابندی کا بھی اعلان کیا۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طارق بگٹی نے قومی ٹیم کی آسٹریلیا میں ہونے والی بدانتظامی کا ذمہ دار پاکستان اسپورٹس بورڈ کو ٹھہرایا۔
واضح رہے کہ قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں اور ٹیم مینجمنٹ نے آسٹریلیا میں ناروا سلوک پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔ قومی ٹیم کے کپتان عماد شکیل بٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹیم مینجمنٹ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ دورۂ آسٹریلیا کے دوران کھلاڑیوں کو مناسب ہوٹل اور معیاری خوراک فراہم نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ بعض مواقع پر کھلاڑی خود کھانا پکانے اور کپڑے دھونے پر مجبور رہے لہٰذا موجودہ انتظامیہ کے ساتھ ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنا ممکن نہیں۔

