Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      پاکستان کی پہلی ‘ایکس یو وی’ (XUV) لانچ: سوزوکی فرینکس (Fronx) نے آٹو موبائل مارکیٹ میں تہلکہ مچا دیا

      بھارت میں سوشل میڈیا پر مزید پابندیاں، لوگوں کا سانس لینا مشکل بنا دیا گیا

      ”سستا بیچو ،مہنگا خریدو“سولر صارفین پر بجلی گرا دی گئی، نیٹ بلنگ کا نیا قانون نافذ

      ایلون مسک کا بڑا اعلان: مریخ سے پہلے ’چاند‘ پر انسانی بستی بسانے کی تیاری، 10 سال کا ہدف مقرر

      گوگل کا سستا اور طاقتور ’پکسل 10 اے‘ وقت سے پہلے لانچ، فیچرز اور قیمت سامنے آگئی

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      پاکستان کا جدید ترین مواصلاتی سیٹلائٹ چین میں لانچنگ سائٹ کی طرف روانہ

      ماں تو ماں ہے ۔۔۔ ونٹر اولمپکس گولڈ میڈل جیتنے پر کم سن بیٹے نے دل جیت لئے

      سفیر بھی بسنت کے جادو کے سامنے بے بس،برطانوی ہائی کمشنر نے بھی گڈی اڑائی

      ”تھڑے والوں ” کی الگ اور ایلیٹ کلاس کی بسنت الگ

      دل ہونا چاہیدا جوان عمراں وچ کی رکھیا۔۔۔۔

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    طاقت کے ایوانوں میں اخلاقی دیوالیہ پن بے نقاب،،پوسٹنگ کے بدلے جسم(قسط نمبر 1)

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:ملک محمد سلمان
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    اگر بیوروکریٹ کے نیفے میں پسٹل چلنا شروع ہوگئے تو آدھے سے زائد ”رِمل شاہ“ بن جائیں گے۔
    یہ وہ ٹاپک ہے جسے میں بہت عرصے سے لکھ نہیں پارہا تھا جبکہ بہت سارے دوستوں کو چاہ کر بھی ڈائریکٹ سمجھانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔
    ایک گالی۔۔۔بیٹی چ ود۔۔۔سب نے سنی ہوگی اس کا مطب پہلی دفعہ سمجھ آیا۔
    پولیس سروس کے ایک طاقتور اور سنئیر افسر جس کی ابھی دو سال سے زائد سروس باقی ہے وہ سپلائیر ہے۔اس کی ایک سوشل ورکر خاتون کے ساتھ طریقہ واردات کی پوری چیٹ دیکھی کہ جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ ہمارا کوڈ ورڈ ہوگا کہ میں تمہیں بیٹی کہوں گا تم مجھے ڈیڈی۔
    مجھ سے ملو گی تب بھی پیکٹ اگر کسی کے پاس بھیجوں گا تب بھی پیکٹ میری گارنٹی،اگلا تمیں کچھ انعام دے دے تو وہ بھی تمھارا۔میرے دفتر آکر پچاس ہزار ایڈوانس لے کر کسی پارلر سے خود کو اپڈیٹ کروا لو۔جہاں بھیجوں آنکھ اور کان بند کرکے جانا ہے۔
    میں نے پہلے بھی کالم لکھا تھا کہ بہت سارے بیوروکریٹ اچھی پوسٹنگ کیلئے سپلائی کا فریضہ ادا کررہے ہیں۔
    پارٹی،پلائی اور سپلائی یہی انکی کامیابی کا راز ہے۔ پینٹ کوٹ اور ٹائی کے اندر چپھی انکی غلاظت کا اندازہ بھی نہیں کرسکتے۔
    پاؤں چاٹ گروپ کی بات کی جائے تو پولیس افسران سر فہرست اور پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس والے دوسرے جبکہ پی ایم ایس والے تیسرے نمبر پر ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اس کام میں کوئی سپیشلائیزیشن کی ہوئی ہے یا پھر سب نے لڑکی پھنسانے کے ٹوٹکوں والا ایک ہی میگزین لے رکھا ہے کہ ہر دوسرے افسر کی چیٹ کا آغاز پاؤں چاٹنے کی خواہش سے ہوتا ہے۔
    ایک ڈی آئی جی کی ویڈیو دیکھی تو وہ سابق چئیرمین نیب کو پیچھے چھوڑ چکے تھے جناب نے عرق گلاب سے ڈانسر کے پاؤں دھوئے اور کئی منٹ تک چاٹتا رہا۔
    یہ جنسی درندے ہر سوشل خاتون پر ٹرائی کرتے ہیں۔ میڈیا گرلز کی بات کی جائے تو یہاں سرکاری افسران کی دال نہیں گلتی ہرلڑکی کی بلاک لسٹ میں پچاس سے زائد بیوروکریٹ ملیں گے۔ بیوروکریسی کے افسران کا آسان ٹارگٹ سماجی تنظیموں سے وابستہ خواتین،جونئیر اور ماتحت خواتین افسران ہوتی ہیں۔
    جنسی درندگی کا آسان طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ نوجوان لڑکیوں کو سی ایس ایس اور سرکاری نوکری کا خواب دکھا کر یہ سستے مینٹور اپنی ہوس پوری کرتے ہیں۔
    سرکاری جنسی درندوں کو پہچاننے کا آسان طریقہ سرکاری ہائرنگ فائرنگ کا ریکارڈ دیکھ لیں باس کی بات ماننے سے انکار کرنے والی خوتین کو مہینوں اور دنوں میں نکال دیا جاتا ہے جبکہ باس کی خواہش کی تکمیل کرنے والوں کیلئے ترقی کے تمام در کھل جاتے ہیں۔
    جنسی درندے بنے افسران سنیپ چیٹ کو سیکس چیٹ کیلئے محفوظ تصور کرتے ہیں۔کچھ نے انٹرنیشنل واٹس ایپٹ نمبر رکھے ہوئے تو کچھ ایسے نڈر ہیں کہ اپنے پرسنل نمبر سے once کرکے گندی اور ننگی تصاویر اور آڈیو چیٹ کرتے ہیں۔ لیکن دوسرے موبائل سے انکی سنیپ چیٹ اور once والی ساری چیٹ ریکارڈ ہورہی ہوتی ہے۔
    درجنوں افسران ان حسیناؤں سے بلیک میل ہوکر خفیہ نکاح نبھا رہے ہیں۔ان پاؤں چاٹنے والوں کی زندگی آوارہ جانوروں سے بھی بدتر ہے۔بلیک میل ہونے والے افسران کی زندگی شرمندگی بن چکی ہے، ایک کال پر یہ گھر میٹنگ اور دفتر چھوڑ کر دم ہلاتے پہنچ جاتے ہیں۔
    پی ایم ایس کے ایک لڑکے نے واقع سنایا کہ ایک سنئیر آفیسر نے اسے بہت تنگ کیا ہوا تھا کہ ایک دفعہ وہ اپنی گرل فرینڈ کے پاس بیٹھا تھا کہ وہی افسر ٹیلیفون کال پر اسکی عزت افزائی کررہا تھا،کال ختم ہوئی تو گرل فرینڈ نے پوچھا کہ کون تھا تو میں نے بے خیالی میں بتادیا کہ فلاں سیکرٹری ہے۔ اس نے فوری موبائل نکالا اور مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے کال ملا دی اور دوسری طرف سے کال اٹھاتے ہی بولی اوئے بات سن۔نیکسٹ۔۔۔۔۔اسکو تنگ کرنے کی شکایت نہ ملے۔دوسری طرف سے سے سیکرٹری نے پوچھا ک تمہارا کیا لگتا ہے تو اس نے جھٹ سے جواب دیا کہ جس طرح تم میرے کتے ہو ویسے ہی یہ بھی ہے۔ افسر کہ کہنا تھا کہ اس کا کام تو ہوگیا لیکن یہ فقرہ آج تک تکلیف دیتا ہے کہ”جیسے تم میرے کتے ہو ویسے ہی یہ بھی ہے“۔
    یہ باتیں کوئی ٹاپ سیکرٹ نہیں ہر افسر کو پتا ہے کہ دوسرا افسر کہاں اور کس کے ساتھ منہ کالا کرتاہے
    ان بے شرم افسران کو سمجھانے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے ان سے اس لیے ہمدردی ہے کہ ان افسران کی اکثریت انتہائی غریب گھروں کے بچے ہیں،خاص طور پر فخر سے اولڈ راوین کہلوانے والے 40ویں کامن سے 46ویں کامن والوں میں سے درجنوں کو میں تب سے جانتا ہوں جب یہ جی سی کی ہاسٹل فیس ادا نہیں کرسکتے تھے اور گاؤں کے دوستوں کی مدد سے کریسنٹ ہاسٹل سول لائنز میں ایک بستر پر دو،دو سوتے تھے، اور دعائیں دیں ہاسٹل مسجد کو جو عشاء کی نماز کے بعد سے فجر تک انکے کیلئے آرام گاہ ہوتی تھی۔ سنئیرز کے حالات بھی زیادہ مختلف نہیں کوئی گاؤں کے چوہدری سے پیسے لیکر شہر آیا تو کسی کی فیس بیرون ملک بیٹھے رشتے دار ادا کرتے تھے۔ یتیم الشانی سے عظیم الشانی کا سفر مبارک ہو، ریکارڈ توڑ کرپشن کے بعد یہ امیر تو ہوگئے لیکن انکی ذہنی پسماندگی اور غربت آج بھی وہیں کی وہیں ہے۔
    ان کو ڈائریکٹ نہیں سمجھا سکتا تھا کہ بیچارے نظریں نہیں ملا پائیں گے۔
    میں انکو پچانا چاہتا ہوں اس لیے ان بے غیرتوں کو سمجھا رہا ہوں کہ لعنتیوں سمجھ جاؤ اس سے پہلے کہ تم اشتہار بن جاؤ۔
    50 سے 60 کے درمیان والے سینیئر افسران جنھیں عام پبلک حتی کہ سیاستدان بھی سر سر کرتے ہیں وہیں پر انکی "شوگر بی بیز” نے ان کا نام "ٹھرکی بابا” "دادا ابو” اور "بے غیرت بڈھا” رکھا ہوا ہوتا ہے۔
    میری تحقیق کے مطابق نوجوان بیوروکریٹ میں سے 50 فیصد جبکہ سینیئر افسران میں سے 65 فیصد ٹھرک کے ہاتھوں مجبور ہو کر کتے سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں۔
    یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ مالی کرپشن کے بغیر اخلاقی کرپشن افورڈ نہیں ہو سکتی۔
    جاری ہے۔۔۔

    Related Posts

    عمران خان کی زندگی کا مسئلہ ، اب عوام کو نہیں روک پائیں گے، سہیل آفریدی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    زیادہ کی خواہش نہیں،زندگی گذارنے کیلئے بنیادی اشیا کے علاوہ کچھ نہیں چاہئیے، عمران خان

    سپریم کورٹ کا 16 فروری سے پہلے عمران خان کی آنکھ کا سپیشلسٹ ڈاکٹرز سے معائنہ ، بچوں سے بات کروانے کا حکم

    مقبول خبریں

    مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے: امریکا نے دوسرا بحری بیڑا روانہ کرنے کی تیاری کر لی، یروشلم پوسٹ

    پاکستان کی پہلی ‘ایکس یو وی’ (XUV) لانچ: سوزوکی فرینکس (Fronx) نے آٹو موبائل مارکیٹ میں تہلکہ مچا دیا

    زیادہ کی خواہش نہیں،زندگی گذارنے کیلئے بنیادی اشیا کے علاوہ کچھ نہیں چاہئیے، عمران خان

    سپریم کورٹ کا 16 فروری سے پہلے عمران خان کی آنکھ کا سپیشلسٹ ڈاکٹرز سے معائنہ ، بچوں سے بات کروانے کا حکم

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےنئے بیان میں بھارت کے گرائے گئے جہازوں کا سکور ‘8 سے بڑھ کر 10’ ہو گیا

    بلاگ

    طاقت کے ایوانوں میں اخلاقی دیوالیہ پن بے نقاب،،پوسٹنگ کے بدلے جسم(قسط نمبر 1)

    ”جہاں انصاف سے پہلے نقاب اتارنے کی فرمائش ہوتی ہے“

    سرنڈر یا سمجھوتہ؟ مسکراہٹ نے کئی سوال چھوڑ دیے،،،

    “نااہل افسر شاہی“ سینئیر کالم نگار توفیق بٹ

    رشوت خور پولیس، طویل انکوائریاں اور عام شہری کی فوری گرفتاری،، احتساب کا دوہرا معیار بے نقاب

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.