اسلام آباد :سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کے ماہر ڈاکٹروں سے معائنے اور ان کی بیٹوں سے بات کروانے کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جیل میں حالت اور فراہم کردہ سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جہاں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی، بیرسٹر سلمان صفدر اور اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے، اس موقع پر بیرسٹر سلمان صفدر نے سپریم کورٹ میں ایک رپورٹ پڑھ کر سنائی جس میں عمران خان نے جیل میں حفاظتی اقدامات اور کھانے پینے کی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
چیف جسٹس سپریم کورٹ یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیئے کہ ’ہم اس پر مناسب آرڈر کریں گے، رپورٹ میں پیش کی گئی دیگر سفارشات کو خود دیکھیں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے تک معاملہ زیر التوا رکھیں گے، عمران خان کی صحت کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کر رہے ہیں، سابق وزیراعظم کی صحت کے معاملے پر بھی مناسب فیصلہ دیں گے، صحت کا مسئلہ سب سے اہم ہے، اس معاملے پر مداخلت کی ضرورت ہے، صحت کے معاملے پر حکومت کا مؤقف جاننا چاہتے ہیں‘۔
دوران سماعت اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، اگر قیدی مطمئن نہیں تو ریاست اقدامات کرے گی‘، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’بچوں سے ٹیلی فون کالز کا ایشو بھی اہم ہے، ہم حکومت پر اعتماد کررہے ہیں، آج حکومت اچھے موڈ میں ہے جب کہ بیرسٹر سلمان صفدر نے بخوبی ذمہ داری نبھائی، فرینڈ آف دی کورٹ کے کردار کو سراہتے ہیں، حکومت کو بھی بہترین سہولیات فراہمی پر سراہتے ہیں‘۔
بیرسٹر سلمان نے بتایا کہ ’مجھے 100 سے زائد کالز اور میسجز آئے، میں نے کہا یہ کورٹ کی امانت ہے میں نہیں بتا سکتا ، یہاں تک کہ اپنی بیوی کو بھی نہیں بتایا‘، سپریم کورٹ نے کہا کہ ’عمران خان کی آنکھ کا چیک اپ 16 فروری سے پہلے کروایا جائے ، بانی پی ٹی آئی کے بچوں سے فون پر بات بھی 16 فروری سے پہلے کروائی جائے‘، جس پر اٹارنی جنرل نے عدالتی ہدایات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرا دی۔
سماعت میں سلمان صفدر نے استدعا کی کہ ’طبی معائنہ کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں کروایا جائے‘، تاہم سپریم کورٹ نے فیملی ممبر کی موجودگی میں میڈیکل کروانے کی استدعا مسترد کردی، سلمان صفدر نے کہا کہ ’عمران خان کو کچھ کتابیں بھی مہیا کی جائیں‘، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ’ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہہ دیا ہے کہ ڈاکٹرز کتابیں پڑھنے کا مشورہ دیں گے تو فراہم کر دی جائیں گی‘۔

