اسلام آباد :وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ آج انہوں نے عمران خان کی آنکھ سے کھیلا تو کل کو کچھ بھی کر سکتے ہیں، پورا پاکستان یہ نام سن لے عبدالغفور انجم، اس کے پیچھے جو بھی ہو ،ذمہ داری اس کی تھی، عمران خان کی زندگی کا مسئلہ ہے، اب ہم عوام کو نہیں روک پائیں گے۔ سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ عمران خان نے نہ میمو گیٹ، نہ ڈان لیک اور نہ اپنے جلسوں میں ’یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے‘ کے نعرے لگوائے ہیں لیکن جنہوں نے یہ کیا ان کو مینڈیٹ چوری کر کے حکومت دے دی گئی، یہ گدھا گاڑی سے لینڈ کروزر کا کام لینا چاہتے ہیں لیکن گدھا گاڑی گدھا گاڑی ہی رہتی ہے، آپ عمران خان کی جان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اب پاکستانیوں کو کوئی نہیں روک سکتا، پی ٹی آئی کے ورکرز بھی ہم نہیں روک سکت، اگر کے پی کے عوام نکلتے ہیں اور صوبے کو بند کرتے ہیں تو صوبے کے ادارے ان کے راستے میں نہیں آئیں گے۔
سہیل آفریدی کہتے ہیں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک سال سے عمران خان اور بشریٰ بی بی کا کیس نہیں لگا، پنجاب کی جعلی حکومت نے عمران خان کے ساتھ طبی دہشت گردی کی، اڈیالہ جیل میں غفور انجم نے پنجاب کی جعلی حکومت کی سرپرستی میں عمران خان کی آنکھ کے ساتھ طبی دہشتگردی کی ہے، یہ رپورٹ جعلی حکومت کی رپورٹ ہے ہمیں کوئی اعتماد نہیں دلایا گیا ہے، پنجاب حکومت کی سربراہی میں جو کچھ ہو رہا ہے اس میں یہ عمران خان کی بینائی تک آ گئے ہیں یہ اس سے آگے بھی جا سکتے ہیں یہ خون کے پیاسے ہو چکے ہیں ماڈل ٹاؤن 26 نومبر اور مریدکے ہمیں یاد ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق حقائق چھپانا اور ڈاکٹرز و اہل خانہ سے ملاقات نہ کرانا آئین اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، عمران خان کو ڈاکٹرز اور فیملی تک رسائی نہ دینا آئین اور قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، اگر عمران خان کا آنکھ کا آپریشن کرنا پڑا تو اس کا مطلب ہے جیل میں غیر انسانی سلوک ہو رہا ہے، خیبر پختونخواہ کی حکومت عمران خان کے مینڈیٹ سے بنی ہے اور ان کے ساتھ ہونے والے ہر ظلم کی مذمت کرتی ہے، صوبائی کابینہ عمران خان سے فوری طور پر اہل خانہ اور ڈاکٹرز کی ملاقات کا مطالبہ کرتی ہے، عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

