تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
قانون کے محافظ کہلانے والے کچھ پولیس اہلکار جب خود قانون شکن بن جائیں تو سب سے زیادہ اذیت عام شہری کو برداشت کرنا پڑتی ہے۔ پولیس میں موجود “چھپی کالی بھیڑیوں” کو قانون کے شکنجے میں لانے کے لیے شہریوں کو نہ صرف ذہنی دباؤ، مالی نقصان اور بدنامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ برسوں تک انصاف کے لیے دربدر بھی ہونا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس کسی عام شہری کو محض شبہے کی بنیاد پر حراست میں لے کر فوری مقدمہ درج کر دیا جاتا ہے، چاہے وہ بعدازاں بے گناہ ہی کیوں نہ ثابت ہو۔ضلع لاہور کے سرکل گجر پورہ کی ایک حالیہ انکوائری رپورٹ نے پولیس کے اندر موجود اسی دوہرے معیار کو بے نقاب کر دیا ہے۔ وائرل آڈیو اور ویڈیو کلپس کی بنیاد پر کی گئی انکوائری میں ثابت ہوا کہ تھانہ گجر پورہ کے بعض پولیس افسران و ملازمان نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے شہریوں سے رشوت وصول کی۔ انکوائری کے مطابق مورخہ یکم فروری 2026 کو رات تقریباً 3 بجے، احمد کلیل ASI، نصیر احمد ASI اور مرتضیٰ ASI نے تین شہریوں عثمان، سفیان اور سیمان کو تھانہ گجر پورہ منتقل کیا۔ شہریوں کے مطابق ان کے پاس 100، 100 عدد گُڈے موجود تھے جن پر صوبائی حکومت کے جاری کردہ بارکوڈ بھی لگے ہوئے تھے۔ اس کے باوجود پولیس اہلکاروں نے مقدمہ درج کرنے کی دھمکی دی اور تین گھنٹے تک انہیں تھانے میں غیر قانونی طور پر روکے رکھا۔
شہریوں کا مؤقف ہے کہ دباؤ کے تحت انہوں نے اپنے ایک دوست سے 56 ہزار روپے منگوائے جو پولیس اہلکاروں کو دیے گئے، جبکہ 100، 100 گُڈوں میں سے 50، 50 گُڑے بھی اپنے پاس رکھ لیے گئے۔ بعد ازاں سوشل میڈیا پر آڈیو اور ویڈیو وائرل ہونے کے بعد رقم اور گُڈے واپس کیے گئے۔ انکوائری رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ مذکورہ پولیس افسران و ملازمان بدنیتی اور ذاتی مفاد کی خاطر رشوت وصول کرنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مرتکب پائے گئے، جو محکمہ پولیس کی بدنامی کا باعث ہے۔ جس مذکورہ افسران کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ دوسری جانب ضلع شیخوپورہ میں بھی پولیس احتساب کی ایک مثال سامنے آئی ہے، جہاں رشوت لینے اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر ایک سب انسپکٹر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ انکوائری میں ثابت ہوا کہ سب انسپکٹر لطیف نے ایک سائل سے 85 ہزار روپے رشوت وصول کی۔ آر پی او شیخوپورہ کی ہدایت پر ایس ایچ او تھانہ نارنگ کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔ آر پی او کا کہنا ہے کہ رشوت لینے اور اختیار کا ناجائز استعمال کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، جبکہ شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے پولیس شکایت سیل 24 گھنٹے فعال ہیں۔
یہ واقعات ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ کیا پولیس احتساب صرف وائرل ہونے یا اعلیٰ سطحی نوٹس تک محدود ہے؟ اور کیا عام شہری کے لیے انصاف کا معیار وہی ہے جو وردی میں ملبوس اہلکار کے لیے رکھا جاتا ہے؟ عوام کا مطالبہ ہے کہ احتساب بلاامتیاز ہو، تاکہ قانون واقعی سب کے لیے برابر ثابت ہو۔


