تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
سانحہ بھاٹی گیٹ پورے انتظامی اور پولیس نظام کا آئینہ ہے جو دعووں، اعداد و شمار اور کارکردگی اشاریوں میں تو نہایت فعال دکھائی دیتا ہے، مگر زمینی حقیقت میں انسانی جانوں کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ ایک خاتون اور اس کی نو ماہ کی بچی کا سیوریج لائن میں گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھنا اس تلخ حقیقت کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ اس نظام کی ترجیحات بگڑ چکی ہیں اور انسانی جان ثانوی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ صوبائی حکومت، بالخصوص وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، نے گورننس بہتر بنانے اور اپنی انتظامی ساکھ مستحکم کرنے کے لیے متعدد اصلاحی اقدامات متعارف کروائے۔ انہی میں انتظامی افسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے 23 نکاتی KPI پرفارمنس انڈکس بھی شامل ہے۔ اس نظام کے تحت لائیو مانیٹرنگ، کھلے مین ہولز، کتے کے کاٹنے کے واقعات، اسکولوں کے سامنے زیبرا کراسنگ، اسٹریٹ لائٹس، تجاوزات، وال چاکنگ اور دیگر شہری مسائل کا ماہانہ آڈٹ کیا جاتا ہے۔ ڈپٹی کمشنرز کو کارکردگی کی بنیاد پر نمبر دیے جاتے ہیں اور کوتاہی پر نمبر کاٹے جاتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک سخت اور مؤثر احتسابی نظام معلوم ہوتا ہے، مگر عملی طور پر یہی نظام دباؤ، غلط رپورٹنگ اور سچ کو دبانے کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔
سانحہ بھاٹی گیٹ میں بھی یہی کچھ ہوا۔ نمبر کٹنے کے خوف نے انتظامی افسران کو اس نہج پر لا کھڑا کیا کہ اصل مسئلے کے حل کے بجائے اسے دبانا زیادہ ضروری سمجھا گیا۔ ماتحت انتظامی افسران اور پولیس پر دباؤ ڈالا گیا کہ معاملہ “سیٹل” کیا جائے۔ اس دباؤ کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک غمزدہ شوہر، جو نہ مجرم تھا نہ ملزم، تھانے میں ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنا۔ اس سے سفید کاغذوں پر انگوٹھے لگوائے گئے، اور جب اس نے انکار یا مزاحمت کی تو اسے برہنہ کر کے چھتر مارے گئے۔ اس کا واحد قصور یہ تھا کہ اگر حقیقت سامنے آ جاتی تو کسی افسر کا KPI متاثر ہو سکتا تھا۔
کیوں اسواقعہ تردید کی جاتی رہی؟ کیوں عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ خاتون اور اس کی بچی کے سیوریج میں گرنے کی خبریں بے بنیاد ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر میتیں برآمد نہ ہوتیں تو شاید الزام بھی اسی شوہر پر ڈال دیا جاتا۔ جیسے ہی لاشیں ملیں، بیانیہ بدل گیا، کارروائیاں ہوئیں، ایک ایس ایچ او معطل ہوا، دو افسران کو شوکاز نوٹس جاری ہوئے، مگر اصل فیصلہ ساز ایک بار پھر دائرۂ احتساب سے باہر رہے۔
یہ سانحہ اس تلخ سچ کو بھی بے نقاب کرتا ہے کہ جدید اور ڈیجیٹل دور کے تمام دعوؤں کے باوجود تھانوں کے اندر روایتی تشدد آج بھی ایک زندہ حقیقت ہے۔ عام شہری ہی نہیں، خود پولیس اہلکار بھی اسی تشدد کا شکار ہوتے ہیں، مگر بولتے نہیں کیونکہ انہیں اسی نظام میں دوبارہ لوٹنا ہوتا ہے۔ جب کوئی معاملہ میڈیا کی توجہ حاصل کر لے تو وقتی معطلیاں اور علامتی کارروائیاں ضرور ہوتی ہیں، مگر مجموعی کلچر جوں کا توں برقرار رہتا ہے۔ آخرکار “سب اچھا” کی رپورٹ آگے بڑھا دی جاتی ہے اور فائل بند کر دی جاتی ہے۔ جیسا کہ چونیاں میونسپل کمیٹی کے اہلکاروں کی ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی ہے جس میں وہ مبینہ طور پر صرف کاغذی کارروائی اور اعلیٰ حکام کو دکھانے کے لیے گٹر پر ڈھکن رکھ کر تصویر بناتے ہیں اور پھر اسے واپس اٹھا کر ساتھ لے جاتے ہیں۔
سانحہ بھاٹی گیٹ کے اگلے ہی روز لاہور میں علی بابا بیکرز کے قریب گامے شاہ کے علاقے میں ایک نوجوان، حسن خان، مین ہول میں گر کر زخمی ہوا۔ وہ خاموش رہا شاید اس خوف سے کہ کہیں اس کے حصے میں بھی وہی سلوک نہ آ جائے جو سچ بولنے والوں کا مقدر بن جاتا ہے۔ یہی خاموشی اس نظام کی سب سے بڑی کامیابی بھی ہے اور سب سے بڑی ناکامی بھی۔
اگر واقعی اصلاح مقصود ہے، اگر واقعی انسانی جان کو ترجیح دینا مقصود ہے، تو کاغذی KPI اور فائلوں میں درج کارکردگی اشاریوں کے بجائے زمینی حقائق کا آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدار سروے ناگزیر ہے۔ چونیاں میں میونسپل کمیٹی کے اہلکاروں کی وائرل ویڈیو جس میں وہ محض تصویری ثبوت کے لیے گٹر پر ڈھکن رکھ کر تصویر بناتے اور پھر اسے اٹھا کر ساتھ لے جاتے ہیں اس پورے نظام کی علامت بن چکی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کو خود یہ سروے کروانا چاہیے تاکہ حقیقت سامنے آسکے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ صوبے بھر میں کتنے مین ہول واقعی بند ہیں، کتے تلف کرنے کے دعوؤں کے باوجود کاٹنے کے واقعات کیوں بڑھ رہے ہیں، اور اسکولوں کے باہر زیبرا کراسنگ اور اسٹریٹ لائٹس کاغذوں میں موجود ہیں یا زمین پر بھی نظر آتی ہیں۔ سانحہ بھاٹی گیٹ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب نظام میں انسانی جان سے زیادہ نمبر، رپورٹ اور ساکھ اہم ہو جائیں تو ایسے سانحات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ جب تک “سب اچھا” کی رپورٹ دینے کا کلچر ختم نہیں ہوتا اور سچ سامنے لانے والوں کو تحفظ نہیں ملتا، تب تک ہر نیا اصلاحی نظام ایک نئے سانحے کا پیش خیمہ بنتا رہے گا۔


