Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      سوشل میڈیا پابندیاں: قومی سلامتی یا اظہارِ رائے پر دباؤ؟ڈیجیٹل ترقی کے خواب کو کن خطرات کا سامنا؟

      8 مئی سے انسٹا گرام کی دنیا تبدیل،ہوشیار! آپ کے پرائیویٹ میسجز اب ’خفیہ‘ نہیں رہے

      سستا ایندھن، جدید ٹیکنالوجی: چیری ماسٹر کا پاکستان میں 13 نئے ماڈلز اور الیکٹرک گاڑی ‘کیو کیو’ لانے کا اعلان

      روبوٹ بنا مسافر طیارے کی ایک گھنٹہ تاخیر کا باعث

      میڈیا کی دنیا کا ایک عہد تمام: سی این این کے بانی اور عظیم مخیر ٹیڈ ٹرنر 87 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ایک ماں، ایک معصوم بچی، اور سچ کی لاش: KPI فیک رپورٹس نے بھاٹی گیٹ سانحہ کیسے جنم دیا؟

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے

    سانحہ بھاٹی گیٹ پورے انتظامی اور پولیس نظام کا آئینہ ہے جو دعووں، اعداد و شمار اور کارکردگی اشاریوں میں تو نہایت فعال دکھائی دیتا ہے، مگر زمینی حقیقت میں انسانی جانوں کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ ایک خاتون اور اس کی نو ماہ کی بچی کا سیوریج لائن میں گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھنا اس تلخ حقیقت کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ اس نظام کی ترجیحات بگڑ چکی ہیں اور انسانی جان ثانوی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ صوبائی حکومت، بالخصوص وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، نے گورننس بہتر بنانے اور اپنی انتظامی ساکھ مستحکم کرنے کے لیے متعدد اصلاحی اقدامات متعارف کروائے۔ انہی میں انتظامی افسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے 23 نکاتی KPI پرفارمنس انڈکس بھی شامل ہے۔ اس نظام کے تحت لائیو مانیٹرنگ، کھلے مین ہولز، کتے کے کاٹنے کے واقعات، اسکولوں کے سامنے زیبرا کراسنگ، اسٹریٹ لائٹس، تجاوزات، وال چاکنگ اور دیگر شہری مسائل کا ماہانہ آڈٹ کیا جاتا ہے۔ ڈپٹی کمشنرز کو کارکردگی کی بنیاد پر نمبر دیے جاتے ہیں اور کوتاہی پر نمبر کاٹے جاتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک سخت اور مؤثر احتسابی نظام معلوم ہوتا ہے، مگر عملی طور پر یہی نظام دباؤ، غلط رپورٹنگ اور سچ کو دبانے کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔
    سانحہ بھاٹی گیٹ میں بھی یہی کچھ ہوا۔ نمبر کٹنے کے خوف نے انتظامی افسران کو اس نہج پر لا کھڑا کیا کہ اصل مسئلے کے حل کے بجائے اسے دبانا زیادہ ضروری سمجھا گیا۔ ماتحت انتظامی افسران اور پولیس پر دباؤ ڈالا گیا کہ معاملہ “سیٹل” کیا جائے۔ اس دباؤ کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک غمزدہ شوہر، جو نہ مجرم تھا نہ ملزم، تھانے میں ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنا۔ اس سے سفید کاغذوں پر انگوٹھے لگوائے گئے، اور جب اس نے انکار یا مزاحمت کی تو اسے برہنہ کر کے چھتر مارے گئے۔ اس کا واحد قصور یہ تھا کہ اگر حقیقت سامنے آ جاتی تو کسی افسر کا KPI متاثر ہو سکتا تھا۔
    کیوں اسواقعہ تردید کی جاتی رہی؟ کیوں عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ خاتون اور اس کی بچی کے سیوریج میں گرنے کی خبریں بے بنیاد ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر میتیں برآمد نہ ہوتیں تو شاید الزام بھی اسی شوہر پر ڈال دیا جاتا۔ جیسے ہی لاشیں ملیں، بیانیہ بدل گیا، کارروائیاں ہوئیں، ایک ایس ایچ او معطل ہوا، دو افسران کو شوکاز نوٹس جاری ہوئے، مگر اصل فیصلہ ساز ایک بار پھر دائرۂ احتساب سے باہر رہے۔
    یہ سانحہ اس تلخ سچ کو بھی بے نقاب کرتا ہے کہ جدید اور ڈیجیٹل دور کے تمام دعوؤں کے باوجود تھانوں کے اندر روایتی تشدد آج بھی ایک زندہ حقیقت ہے۔ عام شہری ہی نہیں، خود پولیس اہلکار بھی اسی تشدد کا شکار ہوتے ہیں، مگر بولتے نہیں کیونکہ انہیں اسی نظام میں دوبارہ لوٹنا ہوتا ہے۔ جب کوئی معاملہ میڈیا کی توجہ حاصل کر لے تو وقتی معطلیاں اور علامتی کارروائیاں ضرور ہوتی ہیں، مگر مجموعی کلچر جوں کا توں برقرار رہتا ہے۔ آخرکار “سب اچھا” کی رپورٹ آگے بڑھا دی جاتی ہے اور فائل بند کر دی جاتی ہے۔ جیسا کہ چونیاں میونسپل کمیٹی کے اہلکاروں کی ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی ہے جس میں وہ مبینہ طور پر صرف کاغذی کارروائی اور اعلیٰ حکام کو دکھانے کے لیے گٹر پر ڈھکن رکھ کر تصویر بناتے ہیں اور پھر اسے واپس اٹھا کر ساتھ لے جاتے ہیں۔
    سانحہ بھاٹی گیٹ کے اگلے ہی روز لاہور میں علی بابا بیکرز کے قریب گامے شاہ کے علاقے میں ایک نوجوان، حسن خان، مین ہول میں گر کر زخمی ہوا۔ وہ خاموش رہا شاید اس خوف سے کہ کہیں اس کے حصے میں بھی وہی سلوک نہ آ جائے جو سچ بولنے والوں کا مقدر بن جاتا ہے۔ یہی خاموشی اس نظام کی سب سے بڑی کامیابی بھی ہے اور سب سے بڑی ناکامی بھی۔
    اگر واقعی اصلاح مقصود ہے، اگر واقعی انسانی جان کو ترجیح دینا مقصود ہے، تو کاغذی KPI اور فائلوں میں درج کارکردگی اشاریوں کے بجائے زمینی حقائق کا آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدار سروے ناگزیر ہے۔ چونیاں میں میونسپل کمیٹی کے اہلکاروں کی وائرل ویڈیو جس میں وہ محض تصویری ثبوت کے لیے گٹر پر ڈھکن رکھ کر تصویر بناتے اور پھر اسے اٹھا کر ساتھ لے جاتے ہیں اس پورے نظام کی علامت بن چکی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کو خود یہ سروے کروانا چاہیے تاکہ حقیقت سامنے آسکے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ صوبے بھر میں کتنے مین ہول واقعی بند ہیں، کتے تلف کرنے کے دعوؤں کے باوجود کاٹنے کے واقعات کیوں بڑھ رہے ہیں، اور اسکولوں کے باہر زیبرا کراسنگ اور اسٹریٹ لائٹس کاغذوں میں موجود ہیں یا زمین پر بھی نظر آتی ہیں۔ سانحہ بھاٹی گیٹ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب نظام میں انسانی جان سے زیادہ نمبر، رپورٹ اور ساکھ اہم ہو جائیں تو ایسے سانحات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ جب تک “سب اچھا” کی رپورٹ دینے کا کلچر ختم نہیں ہوتا اور سچ سامنے لانے والوں کو تحفظ نہیں ملتا، تب تک ہر نیا اصلاحی نظام ایک نئے سانحے کا پیش خیمہ بنتا رہے گا۔

    Related Posts

    وکالت کے فائنل سمسٹر کے طالب علم نے پرائیویٹ ہاسٹل میں خود کشی کر لی

    شیخوپورہ: جوتے بنانے والی فیکٹری میں دھماکہ، متعدد مزدور زخمی

    بھنگ اتھارٹی ہیڈکوارٹر کیلئے 20 کروڑ جاری، کاشت کیلئے5 سالہ لائسنس جاری ہوں گے

    مقبول خبریں

    بھنگ اتھارٹی ہیڈکوارٹر کیلئے 20 کروڑ جاری، کاشت کیلئے5 سالہ لائسنس جاری ہوں گے

    "کاش ہم پھر سے ساتھ کام کر پاتے”: ویدیا بالن کس کی یاد میں رو پڑیں؟ دل سوز پیغام، 25 سال پرانی ‘گمشدہ’ فلم نے یادیں تازہ کر دیں

    متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبروں کا ڈراپ سین، وزارتِ داخلہ نے اصل حقیقت سے پردہ اٹھا دیا!

    8 مئی سے انسٹا گرام کی دنیا تبدیل،ہوشیار! آپ کے پرائیویٹ میسجز اب ’خفیہ‘ نہیں رہے

    داتا دربار خودکش حملے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے پنجاب پولیس کے بہادر اہلکاروں کی 7ویں برسی عقیدت واحترام سے منائی گئی

    بلاگ

    سچ، قانون اور انصاف، دو معاشروں کی سوچ کا فرق بے نقاب، پنجاب پولیس کا افسر حیران

    ہنٹا وائرس اور ایران۔امریکا جنگ: پاکستان کے لیے ایک خاموش مگر سنگین خطرہ

    کیا واقعی ایران نے 16 امریکی فوجی تنصیبات کو مفلوج کر دیا؟ — اندرونی کہانی

    کیا پاکستان میں مارشل لا قریب ہے؟ — ایک محتاط مگر واضح تجزیہ

    ون کانسٹیٹیوشن ایونیو—قانونی فیصلہ یا سیکیورٹی اسٹریٹیجی؟

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.