تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
لاہور کے بھاٹی گیٹ میں پیش آنے والا دل دہلا دینے والا سانحہ ایک ریاستی بے حسی، انتظامی ناکامی اور پولیس کی روایتی مشکوک ذہنیت کا مکروہ چہرہ ہے۔ ایک ماں اور بیٹی گٹر کے کھلے مین ہول میں گر کر جان کی بازی ہار گئیں، مگر المیہ یہ ہے کہ لاشیں زمین سے نکالنے سے پہلے شک کی سوئیاں زندہ بچ جانے والوں کی طرف گھما دی گئیں۔ یہ پاکستان ہے، جہاں عموماً پولیس ہر شکایت کنندہ کو مجرم سمجھتی ہے، اور جب تک معاملہ حکومتی ایوانوں یا میڈیا کی سرخیوں تک نہ پہنچے، تب تک فائلوں پر “سب اچھا ہے” کی مہر لگتی رہتی ہے۔ بھاٹی گیٹ کے اس سانحے پر بھی ابتدا میں یہی پرانی فلم چلائی گئی، مگر جب حکومت کو دی گئی “سب اچھا” رپورٹ نے عالمی اور عوامی سطح پر شرمندگی دلائی، تو اچانک ضمیر جاگ اٹھا۔ واقعے کے بعد متوفیہ سعدیہ کے خاوند کو حراست میں لینا، تشدد کی اطلاعات، اور بغیر کسی ٹھوس جواز کے ریسکیو کال پر گرفتاری یہ سب اس پولیس کلچر کا حصہ ہے جہاں کمزور کو کچلنا اور اصل مجرموں سے نظریں چرانا معمول بن چکا ہے۔ عوامی دباؤ بڑھا تو ایس ایچ او زین عباس کو معطل کر دیا گیا اور ڈی ایس پی کو نوٹس جاری کر کے رسمی کارروائی کا تاثر دیا گیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے آزادانہ محکمانہ انکوائری کے لیے خط ضرور لکھ دیا
کیا یہ انکوائری بھی فائلوں میں دفن ہو جائے گی؟
کیا ایس پی سمیت پولیس رسپانس کی ذمہ داری طے ہو گی، یا حسبِ روایت چند ماتحت قربانی کا بکرا بنیں گے؟ ڈی آئی جی کے خط میں پوچھے گئے سوالات کہ متوفیہ کے خاوند اور دیور کو حراست میں لینے کا محرک کیا تھا، اور پولیس نے ریسکیو کال پر گرفتاری کیوں کی دراصل پولیس کے منہ پر طمانچہ ہیں۔ یہ عوام کا غصہ ہے، یہ ایک ماں کی آخری چیخ ہے، یہ اس بیٹی کی خاموش فریاد ہے جو کھلے مین ہول میں دم توڑ گئی۔ یہ نظام کے کٹہرے میں کھڑے ہونے کا معاملہ ہے۔ اگر اس بار بھی “سب اچھا” کی رپورٹ چلا دی گئی تو یاد رکھا جائے، اگلا مین ہول کسی اور گھر کی دہلیز پر منہ کھولے کھڑا ہوگا، اور قاتل پھر بھی لاپتہ رہے گا۔


