تحریر:میاں حبیب
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے صرف پاکستانی معاشرہ ہی افراتفری اور غیر یقینی کا شکار نہیں پوری دنیا اس وبا کی لپیٹ میں ہے اس کی بنیادی وجہ دنیا بھر کے بدلتے ہوئے حالات ہیں عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیاں، معاشی ناہمواری، دولت کا تیزی سے چند ہاتھوں تک مرکوز ہونا،بدلتے کاروبار، معاشی تبدیلیاں، ٹیکنالوجی کا غلبہ،ضروریات زندگی کی تبدیلیاں، اخلاقی سماجی ناہمواری، کمرشل ازم کا غلبہ، تجارتی پابندیاں، عالمی طاقتوں کے مفادات کا ٹکراو، قوانین اور اصولوں ضابطوں کی خلاف ورزیاں، طاقت کا اندھا استعمال، روایات کی پامالی، عالمی اداروں کی بےتوقیری، ناانصافی اور عالمی سیاسی راہنماوں کے اوچھے پن نے پوری دنیا کو ہیجانی کیفیت سے دوچار کر رکھا ہے وطن عزیز کا مسلہ کچھ اور ہے ہم ایک ٹرانزٹ پریڈ سے گزر رہے ہیں لیکن مجموعی طور پر بھی دیکھا جائے تو پوری دنیا اضطرابی کیفیت کا شکار ہے ایک تو یہ قرب قیامت کی نشانیاں ہیں دوسرا عالمی سیاسی قیادتوں نے انسانوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے پوری دنیا میں ایسا ماحول بن چکا ہے کہ دولت سمٹ کر چند ہاتھوں میں جا رہی ہے چھوٹے کاروبار ختم ہو رہے ہیں افرادی قوت کی جگہ ٹیکنالوجی لے رہی ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں چھوٹے کاروبار بند ہو رہے ہیں چھوٹی کمپنیاں بڑی کمپنیوں میں ضم ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے عام آدمی کے لیے روزگار کے مواقع کم سے کم تر ہوتے جا رہے ہیں جبکہ ارب پتی اب کھرب پتیوں کی دوڑ میں شامل ہو رہے ہیں معاشی ناہمواری بڑھتی جا رہی ہے غربت اور امارات میں فاصلہ نہیں بلکہ خلیج پیدا ہو چکی ہے جسے کم کرنا ممکن نہیں کیونکہ معاشی اصول اور کاروباری جکڑ بند اتنے کارگر ہو چکے ہیں کہ ان کو توڑنا پوری دنیا میں کسی معاشی انقلاب کے بغیر ممکن نہیں رہا سرمایہ کاری نظام کے غلبہ نے پوری دنیا کے وسائل ہائی جیک کر لیے ہیں دنیا کی تمام دولت چند ہاتھوں میں سمٹتی جا رہی ہے ارب پتیوں اور کھرب پتیوں کی دولت ہر منٹ اور سیکنڈ میں بڑھتی جا رہی ہے ان ہی سرمایہ داروں کے ہاتھوں دنیا کے نظام مفلوج ہو رہے ہیں آج کی دنیا میں ہر چیز فار سیل ہے اور سرمایہ کار کمپنیاں خرید رہے ہیں ٹیکنالوجی خرید رہے ہیں ادارے خرید رہے ہیں حکومتیں سیاستدان اور ملک خرید رہے ہیں معدنی ذخائر خرید رہے ہیں اس کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ آٹھ ارب لوگوں کی زندگی بھر کے اثاثے ایک طرف اور چند لاکھ سرمایہ کاروں کی دولت دنیا کی مجموعی آبادی کی دولت سے زیادہ ہے اس معاشی ناانصافی نے دنیا کا نظام درہم برہم کرکے رکھ دیا ہے آج دنیا غیر یقینی کے بھنور میں پھنس چکی ہے امریکہ جیسی سپر پاور کا حکمران لاابالی طبعیت کا مالک طاقت کے نشے میں وہ وہ بونگیاں مار رہا ہے کہ اس نے دنیا کے طے شدہ نظام کا بھرکس نکال دیا ہے آج عالمی ادارے ٹرمپ پالیسیوں کی وجہ سے غیر فعال بےبس اور بے توقیر ہوتے جا رہے ہیں خیر پہلے بھی بات تو طاقت کی مانی جاتی تھی لیکن پہلے پھر بھی کوئی جواز تلاش کرکے یا پیدا کر کے کسی کے خلاف کوئی ایکشن لیا جاتا تھا اب تو چڑھ دوڑنے کی پالیسی ہے خواہشات اصولوں ضابطوں پر حاوی ہو چکی ہیں ٹرمپ اور اس کے قریبی دوستوں کی دولت میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے ملکوں پر بے رحمانہ تجارتی ٹیرف نے عالمی معاشی نظام کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں آج کی عالمی قیادتیں مالی مفادات کے پیچھے پڑی ہیں بڑے ملک چھوٹے ملکوں پر قبضے کر رہے ہیں طاقتور کمزوروں کے وسائل پر ہاتھ صاف کر رہے ہیں وینزویلا کے صدر کا اہلیہ سمیت اغوا، کیوبا کے خلاف کارروائی کی دھمکیاں گرین لینڈ کو خریدنے کی خواہش یو این او کی جگہ بورڈ آف پیس کا قیام اور اس میں بھی کاروبار سب گورکھ دھندا ہے ایک طرف تیسری عالمی جنگ کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے تو دوسری جانب انتہا پسندی بڑھ رہی ہے خوف کے سائے گہرے ہو رہے ہیں پوری دنیا افراتفری کا شکار ہے امریکہ کا معاشرہ خود ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں ملکوں کی معیشتیں لڑ کھڑا رہی ہیں وقت آ گیا ہے کہ بین الاقوامی راہنما سرجوڑ کر بیٹھیں آج کی ضرورتوں کے مطابق نیو ورلڈ آرڈر تشکیل دیں بین الاقوامی سطح پر استحکام پیدا کرنے کے لیے فوری ضروری اقدامات کیے جائیں دولت کو مخصوص ہاتھوں میں جانے سے روکا جائے سوشل جسٹس کا بین الاقوامی منشور تیار کیا جائے تاکہ عام انسانوں کی فلاح ہو سکے اگر جاری افراتفری کو نہ روکا گیا تو دنیا کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔