تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
پنجاب کے پانچ اہم اضلاع میں ڈی پی اوز کی خالی نشستوں پر تعیناتی کے لیے مقابلہ سخت ہو گیا ہے۔ پولیس سروس کے سینئر اور باصلاحیت افسران اس دوڑ میں شامل ہیں، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا اس بار بھی پروفیشنل ازم اور کارکردگی کو فوقیت دی جائے گی یا پھر سفارش کا پلڑا بھاری رہے گا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی بورڈ آئندہ چند روز میں امیدوار افسران کے انٹرویوز کرے گا، جس میں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور، چیف سیکرٹری پنجاب اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام شامل ہوں گے۔ ان انٹرویوز کے بعد ڈی پی اوز کی تعیناتیوں کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
ماضی کی روایت کو دیکھا جائے تو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف ہمیشہ میرٹ، کارکردگی اور فیلڈ تجربے پر پورا اترنے والے افسران کو اہم ذمہ داریاں سونپنے کی حامی رہی ہیں۔ اس بار بھی خواہشمند افسران کی پیشہ ورانہ ساکھ، ماضی کی تعیناتیاں، نظم و ضبط، جرائم پر قابو پانے کی صلاحیت اور انتظامی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب میں ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد، ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ عبادت نثار اور ڈی پی او میانوالی کورس پر روانہ ہو چکے ہیں، جس کے باعث یہ نشستیں خالی ہوئیں۔ اسی طرح ڈی پی او جہلم طارق عزیز سندھو نے ذاتی وجوہات کی بنا پر تبادلے کی درخواست دی ہے، جس کے بعد جہلم میں نئے پولیس افسر کی تعیناتی متوقع ہے۔ قابلِ اعتماد ذرائع کے مطابق ریجنل افسر سی سی ڈی راولپنڈی بینش فاطمہ کو ڈی پی او جہلم تعینات کیے جانے کے قوی امکانات ہیں، جبکہ ایس ایس پی کیپٹن(ر) دوست محمد ممکنہ طور پر ڈی پی او سیالکوٹ کے امیدوار ہیں تاہم حتمی فیصلہ بورڈ کی منظوری سے مشروط ہوگا۔
ڈی پی اوز کی ممکنہ تعیناتی کے لیے جن افسران کے نام زیر غور ہیں، ان میں ایس ایس پی عمران کھوکھر، اے آئی جی ایڈمن اسد اعجاز ملہی، ایس ایس پی عبداللہ احمد، ایس ایس پی دوست محمد، ایس ایس پی ساجد کھوکھر، ایس ایس پی کامران عامر، ایس ایس پی اخلاق اللہ تارڑ اور ایس ایس پی شفیق احمد شامل ہیں۔
پولیس حلقوں میں ان تعیناتیوں کو غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ ان اضلاع میں امن و امان، جرائم کی روک تھام اور عوامی اعتماد کی بحالی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اب سب کی نظریں وزیراعلیٰ پنجاب اور سلیکشن بورڈ کے فیصلے پر مرکوز ہیں کہ آیا واقعی میرٹ جیتے گا یا پھر روایتی دباؤ اپنا رنگ دکھائے گا؟


