تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بسنت فیسٹیول کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 6 سے 8 فروری تک لاہور میں بسنت منائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے عوام سے خوشیوں کا ماحول چھین لیا گیا تھا، اب انہیں ان کی ثقافت اور خوشیاں واپس دی جا رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ کے مطابق بسنت کو محفوظ بنانے کے لیے تمام ادارے متحرک ہیں اور لاہور میں ٹریفک کے لیے بہترین پلان تشکیل دیا گیا ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ بسنت بہار کی آمد کی خوشی میں صدیوں سے منایا جانے والا تہوار ہے اور پنجاب کی ثقافت کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے گا۔ ان کے مطابق 10 لاکھ موٹر سائیکل سواروں کو قاتل ڈور سے بچانے کے لیے مفت وائر فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ بسنت سے قبل پتنگ بازی پر 621 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ ڈور اور پتنگ کے سائز کی خلاف ورزی پر سخت سزا دی جائے گی۔
کیا حفاظتی دعوے ماضی کے زخموں پر مرہم رکھ سکیں گے؟ بسنت کا نام سنتے ہی وہ مائیں یاد آ جاتی ہیں جن کی گود اجڑ گئی، وہ بچے جن کے سر سے باپ کا سایہ چھن گیا، اور وہ گھر جن میں رنگین پتنگوں کی جگہ خاموشی نے ڈیرے ڈال لیے۔ کیمیائی ڈور نے صرف گردنیں نہیں کاٹیں، کئی خاندانوں کی امیدیں بھی کاٹ کر رکھ دیں۔ اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز، کفن میں لپٹی لاشیں اور سڑکوں پر بہتا خون یہ سب اسی تہوار کی تلخ حقیقت رہی ہے۔
متاثرہ خاندان آج بھی یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا ان کے پیاروں کی جان کی قیمت صرف ایک تہوار کی خوشی تھی؟ کیا اس بار واقعی قانون طاقتور ہوگا، یا پھر چند دن بعد وہی ایف آئی آرز، وہی تعزیتی بیانات اور وہی خاموشی؟ بسنت کو خوشی کا تہوار بنانے کا دعویٰ اپنی جگہ، مگر جب تک قاتل ڈور کا مکمل خاتمہ، بے رحم مافیا کے خلاف بے لاگ کارروائی اور انسانی جان کی حقیقی حرمت یقینی نہیں بنتی، تب تک ہر پتنگ کے ساتھ کسی نہ کسی گھر کے دل میں خوف بھی اڑتا رہے گا۔ یہ بسنت واقعی خوشیوں کی ہوگی یا ایک بار پھر کچھ گھروں میں ہمیشہ کے لیے بہار ختم ہو جائے گی—اس کا جواب آنے والے دن دیں گے۔


