تحریر:توفیق بٹ
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے صاحبزادے جنید صفدر شریف کی دوسری شادی کی شاندار تقریبات اپنے اختتام کو پہنچیں ، ان کی پہلی شادی کامیاب نہیں ہو سکی تھی ، مجھے ذاتی طور پر اس کا دکھ ہوا تھا ، تب مجھے اپنی والدہ محترمہ مرحوم یاد آئی تھیں ، وہ میری بہنوں کی شادی اس لڑکے کے ساتھ طے نہیں کرتی تھی جس کے والدین زندہ نہیں ہوتے تھے ، میں اکثر ان سے پوچھتا ،امی لوگ تو چاہتے ہیں ان کی بیٹی کے ساس ، سسر زندہ نہ ہوں ، وہ کہتی تھیں ”بیٹا یہ جو بڑے ہوتے ہیں یہ گھروں کو اجڑنے نہیں دیتے ، یہ بچوں کی ڈانٹ ڈپٹ کر کے انہیں مجبور کر دیتے ہیں وہ اپنے گھروں کو بسائے رکھیں “ ، آج نہ وہ بڑے رہے جو اپنے بچوں کے گھروں کو بسانے کے لیے آخری حد تک جاتے تھے ، نہ وہ بچے رہے جو اپنے بڑوں کی ہر بات دل و جان سے قبول کر لیا کرتے تھے اب معاشرہ اور طرف چل نکلا ہے ، اخلاقیات کی کوئی ویلیو نہیں رہی ، میاں نواز شریف آج کل فارغ ہیں ، ہم ا±مید کرتے ہیں فرصت کے ان لمحات میں وہ کچھ توجہ اپنے نواسے جنید صفدر کی دوسری شادی کو کامیاب رکھنے پر بھی دیں گے ، ایک مینجمنٹ رشتوں کی بھی ہوتی ہے ، پچھلے دنوں میرے پاس میرا ایک سٹوڈنٹ آیا بڑا پریشان تھا میں نے وجہ پوچھی ، کہنے لگا”سر آپ کو پتہ ھے کچھ عرصہ پہلے میری شادی ہوئی ہے ، میری بیوی بہت اچھی ہے ، میرا بہت خیال رکھتی ہے ، میری ہر بات مانتی ہے، مگر یہ بات میری والدہ کو ناگوارا گزرتی ہے ، چنانچہ ہم کہیں کھانا کھانے باہر چلے جائیں واپسی پر تھوڑی دیر ہو جائے وہ ناراض ہو کے بیٹھی ہوتی ہیں ، میں اپنی بیوی کو کبھی شاپنگ کے لیے لے جاو¿ں ماں روٹھ کے بیٹھ جاتی ہے ، میں نے کاروبار کے سلسلے میں بیرون ملک یا بیرون شہر جانا ہوتا ہے ، میں بیگم کو ساتھ لے جاو¿ں ماں منہ بنا لیتی ہے ، میں پریشان ہوں اپنے گھر کا معاملہ کیسے ٹھیک کروں ؟“ ، میں نے کہا ”میں تمہاری یہ مشکل حل کر دیتا ہوں“، اس نے بڑی خوشی اور حیرانی سے میری طرف دیکھا اور پوچھا ”سر وہ کیسے ؟“ ، میں نے عرض کیا تمہاری بیوی تمہاری ہر بات مانتی ہے تم دونوں طے کر کے ہفتے میں ایک دو بار امی کے سامنے لڑ لیا کرو ، مثلا تمہاری بیگم اگر کھانا پکاتی ہے تم اپنی امی کے سامنے ذرا جھڑکنے کے انداز میں ا±س سے کہہ دیا کرو”آج تم نے ساری ہانڈی کا بیڑا غرق کر دیا ہے ، کھانے میں نمک یا مرچیں زیادہ ڈال دی ہیں ، جیسا کھانا میری ماں بناتی ہے دنیا کی کوئی عورت نہیں بنا سکتی “، پھر کسی دن طے شدہ معاملے کے مطابق تمہاری امی کے سامنے تمہاری بیگم تم سے کہے ”میں نے آج میکے جانا ہے“، تم ا±سے ڈانٹ دیا کرو کہ کوئی نہیں جانا ، ابھی پچھلے ہفتے تو تم ہو کے آئی ہو، ” اس نے بڑے تجسس سے میری طرف دیکھا اور پوچھا “سر اس سے میری ماں راضی ہو جائے گی ؟“، میں نے کہا ”تم آزما کر دیکھ لو “، کچھ عرصے بعد وہ میرا شکریہ ادا کرنے آیا کہنے لگا”سر آپ کے اس نسخے پر عمل کرنے کا نتیجہ اب یہ نکلا ہے میں اپنی امی کے سامنے جب اپنی بیگم کو ڈانٹتا ہوں امی آگے سے مجھے ڈانٹ دیتی ہیں اور کہتی ہیں “خبردار میری بہو کو کچھ کہا تو مجھ سے ب±را کوئی نہیں ہوگا ” میں نے اپنے اس سٹوڈنٹ سے کہا “یہ رشتوں کی مینجمنٹ تھی جسے تم سمجھنے سے قاصر تھے ” وہ کہنے لگا “سر یقین کریں اگر یہ سلسلہ مزید بڑھتا میں نے روز روز کی اس بک بک سے تنگ آ کے خود کشی کر لینی تھی ” میاں بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑے ھوتے رہتے ہیں لیکن اگر کوئی “کپتی ساس” لڑائی جھگڑوں کی اس آگ پر تیل ڈالے پھر اس آگ کو طلاق کی حد تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا ، ایک عورت نے گھر کے ٹوٹے ہوئے برتن دیکھ کر اپنے بیٹے سے پوچھا “یہ برتن کیسے ٹوٹے ؟” وہ بولا “امی میری اپنی بیوی سے لڑائی ہو گئی تھی، ایسی بے ضرر لڑائیاں اور ا±ن کے بعد جلدی سے ہو جانے والی صلح صفائیاں بڑی اچھی ہوتی ہیں ، ہم دعا گو ہیں ہمارے پیارے بیٹے جنید صفدر کی دوسری شادی کامیاب رہے ، میں نے ایک بار لکھا تھا “لوگ دوسری شادی اس لیے کرتے ہیں ا±ن کی پہلی شادی کا تجربہ ناکام رہتا ہے ، میں دوسری شادی اس لیے کرنا چاہتا ہوں میری پہلی شادی کا تجربہ بڑا کامیاب رہا ہے بس یہ لکھنے کی دیر تھی میری بیگم نے میری پہلی یعنی اپنی شادی کا تجربہ ناکام بنانے کی بھرپور کوششیں شروع کر دیں ، چنانچہ میں نے سوچا دوسری شادی کرنا تو درکنار ا±س کے بارے میں سوچنا اور لکھنا بھی ”حرام“ ہے ، البتہ ہماری کچھ ”مشرقی بیویوں“ کے ”شوہرز“ شادی کے بعد جو چاہیں گند ڈالیں وہ ا±سے دوسری شادی سے ہزار درجے بہتر سمجھتی ہیں ، میں دنیا کے کسی ملک میں چلا جاو¿ں میری بیگم ب±را نہیں مناتی سوائے عرب ممالک میں جانے کے ، اس کی کوشش ہوتی ہے میں جلد از جلد وہاں سے نکل جاو¿ں کہ کہیں عربیوں کے ساتھ رہ رہ کے ا±ن کا چار چار شادیاں کرنے کا کلچر یا رنگ مجھ پر بھی نہ چڑھ جائے، حالانکہ میں نے ا±سے کئی بار سمجھایا ہے کہ بیگم تم سے زیادہ میری اوقات بھلا کون جانتا ہے ؟ ، وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف اپنے بیٹے کی شادی پر بہت اچھی لگ رہی تھی ، مجھے اگر مریم اورنگزیب کے عہدے کے چھن جانے کا خدشہ نہ ہوتا میں بلا جھجک کہہ دیتا ”مریم اورنگزیب اپنی باس مریم نواز شریف سے زیادہ اچھی لگ رہی تھی“ ، مجھے یقین ہے ا±ن کے اس نئے روپ نئی ڈریسنگ اور نئی باڈی شیپ کے بعد شہباز گل اور پی ٹی آئی کے دوسرے فتنے ا±نہیں اس لقب سے نہیں پکاریں گے جو ان کے نام سے بھی زیادہ اب مشہور ہوگیا ہوا ہے ، شادی کی اس تقریب میں ہم نے دیکھا ہماری وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا میک اپ بھی بہت اچھا تھا چنانچہ وہ بھی اچھی لگ رہی تھی ، ا±نہیں بھی شکر ادا کرنا چاہیے اس کے باوجود ابھی تک ان کا عہدہ بچا ہوا ہے، ورنہ انہیں بھی عہدے سے ہٹائے جانے کی یہ وجہ بڑی معقول ہے کہ ”وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ہوتے ہوئے وہ ہوتی کون ہیں ان سے زیادہ اچھی لگنے والی ؟“، شادی کی اس تقریب میں بے شمار شخصیات نے پگڑیاں یعنی دستاریں پہنی ہوئی تھیں ، یہ منظر دیکھ کر مجھے احمد ندیم قاسمی مرحوم کا شعر یاد آگیا
آپ دستار اتاریں تو کوئی فیصلہ ہو
لوگ کہتے ہیں کہ سرہوتے ہیں دستاروں میں

