گوادر+تہران :ایران سے 200 پاکستانی طلبہ اور زائرین گوادر سے متصل ریمدان گبد بارڈر راہداری سے پاکستان پہنچ گئے ۔
ڈی سی گوادر کے مطابق 2 دن کے دوران 125 طلبہ وطن پہنچے ۔ پاک ایران بارڈر پر گوادر سے ملحق سرحدی راہداری پر زائرین اور طلبہ کے عارضی قیام اور آگے سفر کے انتظامات ڈسٹرکٹ انتظامیہ کی طرف سے فراہم کئے جارہے ہیں ۔
ایران کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر پاکستانی شہریوں کی واپسی کا عمل جاری ہے ۔
دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایرانی حکام کے پرتشدد کریک ڈاؤن میں اب تک 2400 سے زائد حکومت مخالف مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ اعداد و شمار عالمی سطح پر شدید تشویش کا باعث بنے ہیں جبکہ امریکی صدر نے واضح کیا ہے کہ مظاہرین کے خلاف مزید سخت اقدامات ایران کے لیے سنگین نتائج پیدا کریں گے۔
ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک مرتبہ پھر سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حالات سے متعلق اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ ایران کے حکام کو ’انسانیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ساتھ ہی انھوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مظاہرین کو قتل یا سزائے موت دی گئی تو ایران کو اس کے ’سنگین نتائج‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تہران، 200 پاکستانی طلبہ اور زائرین وطن پہنچ گئے، ایران میں مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 2400 سے تجاوز

