لاہورمعروف پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کی ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاؤن کی لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے گذشتہ رات 88 لاکھ روپے سے زائد بجلی کے بل ادا نہ کرنے پر چار بلاکس کے دفاتر کی بجلی منقطع کر دی۔
بحریہ ٹاؤن کے بانی اور چیف ایگزیکٹیو ملک ریاض کے خلاف نیب کی جانب سے کارروائیوں کے بعد بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کو انتظام چلانے میں دشواری کا سامنا ہے۔ کراچی، اسلام آباد اور لاہورمیں بنائی گئی بحریہ ٹاون کی سکیموں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
بحریہ ٹاؤن لاہور کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بحریہ ٹاؤن لاہور میں بجلی کی بندش کا سلسلہ جاری ہے کل سے کئی گھنٹوں بعد صرف آدھا گھنٹہ بجلی آتی ہے جس کے باعث لوگ شدید پریشان ہیں۔ وہ معمول کے مطابق کئی سالوں سے بل دے رہے ہیں ملک ریاض سے اگر مسئلہ ہے تو اس کی سزا عام افراد کو کیسے دی جا سکتی ہے؟ گھروں میں چھوٹے بچے بزرگ بجلی کی بندش سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
چیف ایگزیکٹو لیسکو آفس کی جانب سے میڈیا کو جاری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی پر لیسکو نے بحریہ ٹاؤن کی بجلی کاٹ دی ہے۔ چار بل 21 نومبر تک ادا کرنا تھے، جن پر 88 لاکھ روپے سے زیادہ رقم واجب الادا ہے۔ لیکن مقررہ تاریخ تک بل ادا نہیں کیے گئے۔ اس کے علاوہ بھی بحریہ ٹاؤن نے لیسکو کے 35 کروڑ کے بل ادا کرنے ہیں۔
ایک غیر ملکی اردو ویب سائٹ کے مطابق بحریہ ٹاؤن لاہور انتظامیہ کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بجلی کے بل جس اکاؤنٹ سے ادا ہوتے تھے، اسے نیب نے سیل کر رکھا ہے۔ لیسکو بحریہ کو بجلی فروخت کرتا ہے اور بحریہ سوسائٹی خود صارفین سے بجلی کے بل جمع کر کے لیسکو کو ادائیگی کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا، ہم نے لیسکو کی جانب سے گذشتہ روز جمعرات کو بحریہ ٹاؤن کی تمام سائٹس کی بجلی منقطع کیے جانے کے خلاف متعلقہ عدالت گئے۔ عدالت نے آج جمعے کو بجلی بحال کرنے کے احکامات دے دیے ہیں۔

