واشنگٹن ڈی سی:صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان،بنگلہ دیش افغانستان سمیت تھرڈ ورلڈ ممالک کے شہریوں اور پناہ گزینوں کا امیگریشن پراسس روکنے کا اعلان، 19 ممالک کے شہریوں کو جاری کئے گئے گرین کارڈز کی دوبارہ جانچ، اب ریورس امیگریشن“ ہوگی۔
افغان باشندے کی جانب سے نیشنل گارڈز کے اہلکاروں پر فائرنگ کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سخت اقدامات کا سلسلہ جاری ہے اور اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ’تیسری دنیا کے تمام ممالک‘ سے لوگوں کی امریکہ نقل مکانی کے سلسلے کو ’مستقل طور پر روک دیں گے۔‘
جمعرات کو ٹروتھ سوشل پرسلسلہ وار پیغامات میں امریکی صدر نے اگرچہ اس پابندی کے نفاذ کے طریقۂ کار اور ٹائم لائن کا کوئی ذکر نہیں کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد ’امریکی نظام کی مکمل بحالی‘ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ضروری ہے کیونکہ بےقابو نقل مکانی نے امریکی معاشرے کو کمزور کیا ہے اور اس کے وسائل پر دباؤ ڈالا ہے۔ جب تک نظام مستحکم نہیں ہوتا، ان ممالک سے آنے والے کسی نئے تارکِ وطن کو داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب نیشنل گارڈز کے اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی حکومت نے نہ صرف افغان شہریوں کی تمام امیگریشن درخواستوں پر کارروائی روک دی ہے بلکہ 19 ممالک سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد کے کیسز کی دوبارہ جانچ کا بھی کہا ہے جن کے پاس گرین کارڈ یا امریکہ میں مستقل رہائش کا اجازت نامہ ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ 19 ممالک سے امریکہ ہجرت کرنے والے افراد کو جاری کیے گئے گرین کارڈز کی دوبارہ جانچ کرے گی۔
یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کے سربراہ جوزف ایڈلو نے کہا کہ صدر نے انھیں ہدایت کی ہے کہ وہ ’امریکہ کے لیے تشویش کا باعث بننے والے ممالک سے آنے والے ہر اجنبی کے لیے گرین کارڈ کی مکمل اور سخت جانچ پڑتال کریں۔‘
ممکنہ طور پرافغانستان، کیوبا، ہیٹی، ایران، صومالیہ اور وینزویلاکے شہریوں کو جاری کئے گئے گرین کارڈز کی دوبارہ جانچ ہوگی۔
یہ اعلان بدھ کے روز واشنگٹن ڈی سی میں ایک افغان شہری کی جانب سے مبینہ طور پر نیشنل گارڈ کے دو فوجیوں پر فائرنگ کے بعد سامنے آیا ہے، اس واقعے میں نیشنل گارڈ کی ایک اہلکار جان کی بازی ہار گئی تھیں جبکہ ایک اہلکار شدید زخمی ہے۔
ملزم رحمان اللہ لکنوال 2021 میں ایک پروگرام کے تحت امریکہ آیا تھا جس میں افغانستان سے امریکہ کے انخلاء کے تناظر میں افغانوں کو خصوصی امیگریشن کی پیشکش کی گئی تھی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ فائرنگ سے قومی سلامتی کو لاحق ایک بڑے خطرے کی نشاندہی ہوتی ہے۔
امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ان تارکین وطن کی شہریت ختم بھی کر دیں گے جو ’داخلی امن و سکون کو نقصان پہنچاتے ہیں‘ اور کسی بھی ایسے غیرملکی کو ملک بدر کریں گے جو کہ کسی جرم کا مرتکب اور سلامتی کے لیے خطرہ ہو یا مغربی تہذیب کے ساتھ مطابقت نہ رکھتا ہو۔
ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ تارکینِ وطن کی امریکہ آمد کا سلسلہ روک دینا ہی صرف کافی نہیں بلکہ ’صرف ریورس مائیگریشن ہی اس صورتحال کو مکمل طور پر ٹھیک کر سکتی ہے۔ وہ افراد جو غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہوئے ہیں یا امریکی معاشرے میں خلل کا باعث ہیں، انھیں ان کے آبائی ملک واپس جانے کی ترغیب دی جائے گی۔‘
ایڈلو نے کہا کہ ’اس ملک اور امریکی عوام کا تحفظ سب سے اہم ہے، اور امریکی عوام سابقہ انتظامیہ کی دوبارہ آبادکاری کی لاپرواہ پالیسیوں کی قیمت برداشت نہیں کریں گے۔‘
دیگر ممالک جن کے گرین کارڈ ہولڈرز کی دوبارہ جانچ کی جائے گی ان میں میانمار، چاڈ، جمہوریہ کانگو اور لیبیا شامل ہیں۔

