اسلام آباد (نیٹ نیوز )دنیا کے قہوہ خانے اب قہوے سے زیادہ "قیمت” بیچنے لگے ہیں، اور دبئی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ یہاں مشروب پینے سے پہلے آپ کو اپنی جیب کا پوسٹ مارٹم کروانا پڑتا ہے۔ جولیتھ کیفے نے دنیا کی سب سے مہنگی کافی متعارف کرا دی ہے جس کی ایک چسکی تقریباً 2 لاکھ 75 ہزار پاکستانی روپے میں پڑتی ہے۔ جی ہاں، اتنے میں پاکستان میں بندہ ایک موٹر سائیکل، دو بکرے یا ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کر سکتا ہےمگر دبئی میں صرف کافی پی سکتا ہے۔یہ "گیشا” نامی کافی ہے، جو پاناما کے آتش فشانی علاقوں کی ڈھلوانوں پر اگتی ہےیعنی زمین بھی گرم، جیب بھی۔ کیفے کے مطابق، یہ کوئی مارکیٹنگ نہیں بلکہ “انسانیت کی اعلیٰ ذائقہ برداری کا امتحان” ہے۔ ظاہر ہے، اتنی مہنگی کافی پینے کے بعد ذائقہ اچھا لگنا ہی چاہیے، ورنہ پینے والا خود آتش فشاں بن جائے گا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کیفے نے صرف 400 کپ تیار کیے ہیں، گویا یہ کافی نہیں بلکہ نایاب شاہکار ہے، جسے پینے کے لیے اجازت نامہ اور شاید پاسپورٹ دونوں درکار ہوں۔ ایک کپ تو دبئی کے حکمران کے نام مخصوص ہے، باقی خوش نصیب وہ ہوں گے جن کے بینک اکاؤنٹ میں عدد ختم نہیں ہوتے۔

