اسلام آباد :پولیس نے اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر واجد گیلانی کے ساتھ جھڑپ کے بعد حکومت مخالف مؤقف رکھنے والی انسانی حقوق کی کارکن ایڈووکیٹ ایمان مزاری حاضر، ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے وابستہ متعدد وکلا کے خلاف دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
بار قیادت نے الزام عائد کیا کہ وکلا کے ایک گروپ نے اس کے صدر پر حملہ کیا، انہیں ہراساں کیا اور ریاستی اداروں کے خلاف نعرے لگائے۔
ایمان مزاری، ہادی علی چٹھہ، زینب جنجوعہ، پی ٹی آئی سے وابستہ وکلا نعیم پنجوتھا، فتح اللہ بَرکی اور دیگر کے خلاف ایف آئی آر پی پی سی اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت درج کی گئی۔
وکلا نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عدالتی کام سے معطل کرنے کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں مظاہرہ کیا تھا۔
مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے اور عدلیہ کی آزادی کے حق میں نعرے لگائے، اسلام آباد بار کونسل کے رکن علیم عباسی، سابق صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ریاست علی اور ایڈووکیٹ ایمان مزاری ان نمایاں وکلا میں شامل تھے جنہوں نے ریلی میں شرکت کی۔
شیدگی اس وقت بڑھی جب پی ٹی آئی سے وابستہ وکلا، جن میں انتظار حسین پنجوتھا، نعیم پنجوتھا اور فتح اللہ برکی شامل تھے، آئی ایچ سی بی اے کے صدر واجد علی گیلانی کے سامنے آگئے، عینی شاہدین کے مطابق پی ٹی آئی وکلا نے واجد علی گیلانی کو دھکا دیا جس سے جھگڑا ہوا، تاہم آئی ایچ سی بی اے کے سیکریٹری منظور احمد جاجا اور دیگر وکلا نے بیچ بچاؤ کرایا۔
بعد ازاں آئی ایچ سی بی اے کے صدر واجد علی گیلانی، سیکریٹری اور بار کونسل کے نائب چیئرمین نصیر احمد کیانی کے ہمراہ واقعے کی مذمت کی اور اعلان کیا کہ بار کونسل کو ریفرنس بھیج کر ملزم وکلا کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے اور ان کے لائسنس منسوخ کرنے کی سفارش کی جائے گی۔


