Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      واٹس ایپ صارفین کیلئے جادو کا چراغ بن گیا، بڑی سہولت متعارف

      چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک نے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے لیے نیا "سپر ایجنٹ” متعارف کرا دیا

      ریڈ جائنٹ ستاروں کی ہولناک تباہی سے بچ جانے والے تین انوکھے سیارے دریافت

      روبوٹ کتوں کو سیر کروائیں، ہزاروں کمائیں: مستقبل کی انوکھی نوکری

      اے یو اسمال فائنانس اور وجئے سیلس پر بڑا سائبر حملہ، کروڑوں صارفین کا ڈیٹا خطرے میں

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

     ٹیکس کی جنت، سہولتوں کا قحط: پاکستانی عوام کا المیہ

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    رپورٹ:  اسدمرزا

    "جہاں لفظ بےنقاب ہوں… وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے”

    دنیا کے مہذب اور ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکس کو ریاست کی شہ رگ کہا جاتا ہے۔ عوام حکومت کو ٹیکس دیتی ہے اور حکومت اس کے بدلے میں تعلیم، صحت، روزگار، سیکیورٹی، پانی، بجلی، گیس، شفاف عدالتی نظام، کرپشن سے پاک ادارے اور ایک باوقار زندگی جیسے بنیادی حقوق فراہم کرتی ہے۔ یہی نظام عوام کے اعتماد کو مضبوط کرتا ہے، جس کی بدولت ریاستیں ترقی کرتی ہیں، خوشحالی آتی ہے، اور معاشرہ سکون اور تحفظ کا گہوارہ بنتا ہے۔

    لیکن پاکستان اس بنیادی اصول سے یکسر الٹ چلنے والا شاید دنیا کا واحد ملک ہے۔

    یہاں ریاست ٹیکس تو ضرور لیتی ہے، بلکہ ہر ممکن ذریعے سے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے میں مصروف نظر آتی ہے۔ لیکن بدلے میں عوام کو کیا دیا جاتا ہے؟ سہولیات تو دور کی بات، ریاستی ادارے عوام کے لیے خوف، ذلت اور محرومی کا باعث بن چکے ہیں۔

    بجلی، پانی اور گیس: سہولت یا سزا؟

    پاکستان میں بجلی ہو یا پانی، گیس ہو یا پیٹرول، ان کی قیمتیں ہر گزرتے دن عوام کی دسترس سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ اکثر علاقوں میں بجلی کئی کئی گھنٹے غائب رہتی ہے، اور جہاں آتی ہے وہاں اوور بلنگ ایک معمول بن چکی ہے۔ گیس کی فراہمی صرف اشتہارات میں نظر آتی ہے، اور پینے کا صاف پانی آج بھی کروڑوں پاکستانیوں کے لیے خواب ہے۔ کیا یہ ہے ریاست کی ذمہ داریوں کا نبھانا؟

    سرکاری محکمے: خدمت کے مراکز یا کرپشن کے اڈے؟

    جو شخص کسی سرکاری دفتر میں قدم رکھتا ہے، وہ عزت، سہولت یا انصاف کے بجائے سفارش، رشوت اور بے عزتی کا سامنا کرتا ہے۔ کرپشن اس قدر نظام میں جڑ پکڑ چکی ہے کہ اگر آپ "حق” پر بھی ہوں تو "نذرانہ” دیے بغیر آپ کی بات نہیں سنی جاتی۔ پولیس ہو، پٹواری ہو، محکمہ مال ہو، یا صحت، سب ایک دوسرے سے بڑھ کر "لوٹ مار” میں مصروف ہیں۔

    روزگار یا رسوائی؟

    تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، جبکہ ملازمتیں صرف ان کے لیے مخصوص ہو چکی ہیں جن کی جیب میں سفارش ہو یا پشت پر سیاسی تعلق۔ نادار عوام کے بچے مزدوری اور محنت کشی میں کھو جاتے ہیں، اور جو میرٹ پر آنا چاہتے ہیں، انہیں بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔

    عوامی تحفظ یا فورسز کا خوف؟

    حکومت نے مختلف ناموں سے درجنوں فورسز تشکیل دی ہیں، جن کا مقصد بظاہر عوام کا تحفظ ہے، لیکن عملاً ان کے اقدامات عوام کے لیے مزید خوف، بے چینی اور دباؤ کا باعث بن چکے ہیں۔ یہ فورسز بجائے اس کے کہ چور، ڈاکو، بھتہ خور اور قاتلوں کے خلاف کارروائی کریں، یہ زیادہ تر عام شہریوں کو تنگ کرنے، جرمانے کرنے، اور ان پر اپنی رٹ جتانے میں مصروف ہیں۔

    جرم کرنے والا آزاد، اور شریف شہری مجبور

    شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب میڈیا پر کسی چوری، ڈکیتی یا قتل کی خبر نہ آتی ہو۔ اور المیہ یہ ہے کہ اکثر مجرم آزاد گھومتے ہیں، اور انصاف کے متلاشی سالوں عدالتوں کے چکر کاٹتے رہتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب عوام ریاست سے بیگانہ ہونے لگتی ہے۔

    نتیجہ: ریاستی ناکامی یا منظم غفلت؟

    پاکستان کا مسئلہ صرف کرپشن یا نااہلی نہیں، بلکہ ایک ایسا نظام ہے جو عوام دشمن پالیسیوں پر قائم ہو چکا ہے۔ حکومت عوام سے ٹیکس تو لیتی ہے، لیکن اس کا مصرف صرف حکمرانوں کی عیاشی، غیر ضروری پروجیکٹس، پروٹوکول، غیر پیداواری اخراجات، اور بیرون ملک جائیدادوں میں دکھائی دیتا ہے۔

     

    جب تک ریاست ٹیکس کا اصل فلسفہ نہیں سمجھے گی، اور اس رقم کو عوام کی فلاح کے لیے استعمال نہیں کرے گی، تب تک نہ عوام خوشحال ہو سکتے ہیں، نہ ملک ترقی کر سکتا ہے۔ آج ہمیں محض حکومتیں بدلنے کے بجائے سوچنے کی ضرورت ہے کہ نظام کیسے بدلا جائے؟

    Related Posts

    کرسٹیانو رونالڈو کاجذباتی ویڈیو پیغام کے ذریعے ریٹائرمنٹ کا اعلان

    لاہور: برکت مارکیٹ میں شہری سے کھانے کے پیسے مانگنا مہنگا پڑ گیا، پولیس اہلکاروں کے خلاف بھیک مانگنے کا مقدمہ درج

    افغانستان بمقابلہ زمبابوے پہلا ٹیسٹ: برینڈن ٹیلر کی سنچری

    مقبول خبریں

    کرسٹیانو رونالڈو کاجذباتی ویڈیو پیغام کے ذریعے ریٹائرمنٹ کا اعلان

    لاہور: برکت مارکیٹ میں شہری سے کھانے کے پیسے مانگنا مہنگا پڑ گیا، پولیس اہلکاروں کے خلاف بھیک مانگنے کا مقدمہ درج

    افغانستان بمقابلہ زمبابوے پہلا ٹیسٹ: برینڈن ٹیلر کی سنچری

    سلہٹ  ٹیسٹ: پہلے دن   ویسٹ انڈیز کے 4 وکٹوں پر 235 رنز، عامر جنگو کی شاندار سنچری

    قصور: خودکشی کی کوشش کرنے والی لڑکی کی زندگی بچا لی گئی، ڈی پی او کی کونسلنگ پر دونوں خاندان شادی پر رضامند، بارات گھر پہنچ گئی،پولیس اہلکاروں کی شرکت

    بلاگ

    ’’پولیس کی دنیا کے تین دلچسپ منظرنامے، انسانی ہمدردی، جھپیاں پپیاں اور اہم عہدے کی جنگ’’

    پیلو وینس کا جسرا خاندان؛ علم و طب کے میدان میں 27 ڈاکٹرز کی روشن مثال

    ’’عمران خان کی نئی ڈائریکشن’’ میاں حبیب کاکالم

    محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی؛ ایک مزدور کے بیٹے نے ڈاکٹر بن کر تاریخ رقم کر دی

    پی کے کلانی: غربت سے جدوجہد تک، ہنر، خودداری اور عزم کی ایک ناقابلِ فراموش داستان

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.