کینیا کی ایک عدالت نے 191 افراد کے قتل کے مجرم پادری کو 200 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ یہ خبر بین الاقوامی میڈیا اور مقامی خبر رساں اداروں میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے، جو کہ ایک بڑے مذہبی اسکینڈل اور انسانی المیے سے جڑی ہے۔ کینیا کے ایک شدت پسند اور خود ساختہ مذہبی راہنما / پادری (پول میکینجی – Paul Mackenzie) کو اس ہولناک جرم کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ مجرم نے اپنے پیروکاروں کو فاقہ کشی (بھوک سے مرنے) کی تلقین کی تھی تاکہ وہ مبینہ طور پر "یسوع مسیح سے ملاقات” کر سکیں۔ اس خطرناک نظریے کے نتیجے میں 190 سے زائد معصوم افراد بھوک اور بیماری کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے۔ یہ اندوہناک واقعہ کینیا کے علاقے شاکاہولا (Shakahola Forest) کے جنگلات میں پیش آیا تھا، جہاں سکیورٹی فورسز اور تفتیشی اداروں نے اجتماعی قبریں بھی دریافت کی تھیں۔

