اسونسیون:
پیراگوئے کی سیاست میں اس وقت طوفان برپا ہو گیا جب ملک کے صدر سانتیاگو پینا (Santiago Peña) کو ایک بڑے مالیاتی اسکینڈل اور ڈیجیٹل بینک "اینو بینک” (Ueno Bank) کے انکشافات کے بعد پارلیمنٹ نے مواخذے کے ذریعے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ صدر کی برطرفی کے بعد پبلک پراسیکیوٹر آفس نے ان کے خلاف باضابطہ فوجداری مقدمات درج کر کے گرفتاری اور قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔یہ بحران اس وقت شروع ہوا جب پیراگوئے کے سب سے بڑے ڈیجیٹل قرض دہندہ ادارے "اینو بینک” کی دیوالیہ ہونے کی خبریں سامنے آئیں اور مرکزی بینک نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔ بینک کی بندش کے بعد لاکھوں شہریوں، پنشنرز اور جمع کنندگان کی جمع پونجی خطرے میں پڑ گئی، جس پر دارالحکومت اسونسیون کی سڑکوں پر ہزاروں افراد سراپا احتجاج بن گئے۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومتی سرپرستی میں عام شہریوں کے اربوں روپے لوٹے گئے ہیں۔معاشی بحران شدت اختیار کرنے پر کانگریس نے صدر سانتیاگو پینا کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کی۔ پارلیمنٹ سے بچنے کے لیے صدر پینا نے خود استعفیٰ دینے کی کوشش کی تاکہ وہ پارلیمانی استثنا (Parliamentary Immunity) حاصل کر سکیں، تاہم قانون سازوں نے ان کا استعفیٰ مسترد کرتے ہوئے مواخذے کی کارروائی جاری رکھی۔ جمعہ کے روز سینیٹ نے صدر کو اپنے فرائض سے غفلت برتنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر مجرم قرار دے دیا۔تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ حکومت نے قانونی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے ریاستی فنڈز اور سوشل سیکیورٹی کے اربوں روپے "اینو بینک” میں منتقل کیے۔ اس کے علاوہ بینک انتظامیہ نے ضوابط کے خلاف جا کر اپنے ہی قریبی افراد اور کمپنیوں کو بھاری قرضے جاری کیے، جس سے بینک کا سرمایاجات کا تخمینہ خطرناک حد تک گر گیا۔عدالت نے بینک کے بانی اور صدر سمیت درجنوں اعلیٰ حکام اور کاروباری شخصیات کے خلاف وارنٹ جاری کرتے ہوئے انہیں تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا ہے۔صدر سانتیاگو پینا کی برطرفی کے بعد نائب صدر پیڈرو الیانا (Pedro Alliana) کو ملک کا نیا صدر چن لیا گیا ہے، جو اگست 2028ء تک اپنی آئینی مدت پوری کریں گے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بحران نے پیراگوئے کی معاشی ساکھ کو شدید دھکا پہنچایا ہے اور یہ ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا مالیاتی و سیاسی اسکینڈل بن چکا ہے۔

