بھریہ سٹی (رپورٹ : مجاہد علی مغل)
بھاران مری کی رہائشی ایک غریب خاتون شہناز بی زوجہ حبیب احمد بھٹی نے اپنی 14 سالہ بیٹی فضیلت کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے لاکھا روڈ کی رہائشی خاتون شمیم اختر کھرل اور پڈعیدن پولیس کے ہیڈ کانسٹبل عبدالعزیز آرائیں پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے اور ہراساں کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔متاثرہ خاتون شہناز بی بی اور ان کی بیٹی فضیلت نے میڈیا کو بتایاکہ لاکھا روڈ کی رہائشی شمیم اختر پڈعیدن آئیں اور ان سے ان کی 14 سالہ بیٹی فضیلت کا رشتہ اپنے بیٹے صدام کے لیے مانگا۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی بات چیت پر انہوں نے مؤقف اپنایا تھا کہ رشتہ طے کرنے سے قبل وہ خود لاکھا روڈ جا کر اس گھرانے کی جانچ پڑتال کریں گی، اور چونکہ بچی کی عمر ابھی صرف 14 سال ہے، اس لیے رشتہ طے پانے کی صورت میں بھی شادی 3 سے 4 سال بعد کی جائے گی۔متاثرہ خاندان کے مطابق جب انہوں نے لاکھا روڈ جا کر متعلقہ گھرانے کی انویسٹی گیشن کی تو ان کا ماحول اور چال چلن درست نہیں پایا گیا، جبکہ لڑکا بھی مبینہ طور پر نشے کا عادی تھا۔ متاثرہ فریق کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے لڑکے سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو انہیں ملنے نہیں دیا گیا۔خاندان کا الزام ہے کہ اس کے بعد سے ملزمہ شمیم اختر کھرل اور پڈعیدن پولیس کے ہیڈ کانسٹبل عبدالعزیز آرائیں انہیں مسلسل تنگ، پریشان اور بلیک میل کر رہے ہیں، اور ایک لاکھ روپے بھتہ طلب کیا جا رہا ہے۔ رقوم نہ دینے کی صورت میں پڈعیدن پولیس اسٹیشن بلا کر جھوٹے مقدمات درج کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔متاثرہ خاندان نے آئی جی پولیس سندھ، ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد اور ایس ایس پی نوشہروفیروز میر روحل کھوسو سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ان کی 14 سالہ بچی اور غریب خاندان کو ہراساں کرنے والی بلیک میلر خاتون شمیم اختر کھرل اور پولیس اہلکار عبدالعزیز آرائیں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر انہیں یا ان کے اہل خانہ کو کوئی بھی نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری انہی افراد پر عائد ہوگی۔

