سکھر(رپورٹ/عبد الرحمان راجپوت)
حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس کی اپیل پر سکھر یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام آج سکھر پریس کلب کے سامنے کوٹری کے صحافی باریجو بھائیوں اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف جامشورو پولیس کی مبینہ انتقامی کارروائیوں، پولیس گردی اور بااثر سردار کے دباؤ پر ہونے والے مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں صحافی رہنماؤں اور صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے رہنما لالہ اسد پٹھان نے کہا کہ کوٹری میں بے گناہ نوجوان دلشیر برفت کے قتل کی آڑ میں صحافیوں اور ان کے اہلِ خانہ کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جامشورو پولیس اگر حکومتی سرپرستی رکھنے والے بااثر سردار کے دباؤ پر صحافیوں کو ہراساں کرنے، ان کے گھروں پر دھاوے بولنے اور خواتین و بچوں کی تذلیل کرنے کا سلسلہ بند نہیں کرتی تو صحافی برادری بھرپور مزاحمت کرے گی اور دمادم مست قلندر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو حقائق سامنے لانے اور اپنا پیشہ ورانہ کردار ادا کرنے سے روکنے کے لیے دباؤ اور طاقت کا استعمال آزادیٔ صحافت پر حملہ ہے، جس کے خلاف صحافی برادری کسی دباؤ کے بغیر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ سکھر یونین آف جرنلسٹس کے صدر جاوید جتوئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے روز سے ہی بے گناہ نوجوان دلشیر برفت کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس افسوس ناک واقعے سمیت تمام متعلقہ واقعات کی شفاف تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں عدالتی کمیشن قائم کیا جائے، تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں، قتل کے ذمہ داروں کا تعین ہو اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ دلشیر برفت کے قتل کی آڑ میں صحافیوں باریجو برادرز اور ان کے اہلِ خانہ کو نشانہ بنانا انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ صحافی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جامشورو پولیس مبینہ طور پر بااثر شخصیات کے دباؤ میں آکر باریجو برادری کے عزیزوں اور رشتہ داروں کی زندگی اجیرن بنا رہی ہے، رات کی تاریکی میں گھروں پر چھاپے مار کر خواتین، بچوں اور بزرگوں کو خوفزدہ کیا جا رہا ہے۔ صحافی عظیم باریجو کے سالے کو لاپتا کیے جانے، صحافی پرویز دل کی بہنوں کو ہراساں اور تذلیل کا نشانہ بنانے اور ان کے کزن عرس دل عرف مٹھو کو مبینہ تشدد کے بعد اٹھائے جانے جیسے واقعات انتہائی تشویش ناک ہیں۔ متاثرہ خواتین کے مطابق ڈی ایس پی کوٹری شاہنواز جوکھیو کی سربراہی میں پولیس نفری نے گھر کی دیواریں پھلانگ کر خواتین اور بچیوں کو اسلحے کے زور پر نیند سے بیدار کیا اور مبینہ طور پر تشدد و تذلیل کا نشانہ بنایا، جبکہ اس کارروائی کے دوران سادہ لباس اور منہ ڈھانپے افراد کی موجودگی اور خاتون پولیس اہلکاروں کی عدم موجودگی کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جن کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ جامشورو میں پولیس کو قانون کے تابع ہونا چاہیے، نہ کہ کسی بااثر شخصیت کے دباؤ پر کارروائیاں کرنے کا ذریعہ بنایا جائے۔ ایس ایس پی جامشورو کا کردار بھی اس پورے معاملے میں جانبداری کے الزامات کی زد میں ہے، اس لیے ان کی معطلی اور عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف تمام انتقامی کارروائیاں فوری بند کرائی جائیں اور لاپتا افراد کو بازیاب کرایا جائے، تشدد اور ہراسانی کے واقعات کی تحقیقات کرکے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور کسی بھی فرد کو قانون سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔ رہنماؤں نے واضح کیا کہ احتجاجی تحریک کے پہلے مرحلے میں سندھ بھر میں تین روز تک احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے، جس کے بعد بھوک ہڑتالوں، دھرنوں، کانفرنسوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں، بار ایسوسی ایشنز اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ مشترکہ احتجاجی پروگرام ترتیب دیے جائیں گے۔ اگر سندھ حکومت نے فوری نوٹس لے کر انصاف کے تقاضے پورے نہ کیے اور صحافیوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ بند نہ کرایا تو احتجاج کا دائرہ سندھ سے بڑھا کر ملک گیر سطح تک پھیلا دیا جائے گا۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن سے اپیل کی کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے عدالتی کمیشن کے قیام اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔ احتجاجی مظاہرے میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری فنانس لالا اسد پٹھان، سک…

