، بھریا سٹی رپورٹ: مجاہد علی مغل
ضلع نوشہرو فیروز کی اسکارپ کالونی میں ملازمتوں کے حصول کے لیے نوجوانوں کی جانب سے جمع کروائی گئی قیمتی اور اہم دستاویزات دفتر کے باہر کچرے کے ڈھیر پر پھینکنے کا ایک انتہائی افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد علاقے کے نوجوانوں میں شدید تشویش، غم و غصہ اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ملازمتوں کی امید میں بے روزگار نوجوانوں نے اپنے تعلیمی اسناد، شناختی کارڈ اور دیگر ضروری دستاویزات متعلقہ دفتر میں جمع کروائے تھے۔ نوجوانوں کو اس بات کا یقین دلایا گیا تھا کہ دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد انہیں میرٹ کی بنیاد پر تقرری نامے جاری کیے جائیں گے۔ تاہم، حکومتی وعدوں کے برعکس، یہ تمام کاغذات دفتر کے سامنے کوڑے کے ڈھیر پر بے دردی سے بکھرے ہوئے پائے گئے۔اس واقعہ نے متعلقہ محکمے کی کارکردگی، شفافیت اور انتظامی امور پر شدید سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ پہلے ہی ملکی سطح پر بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے باعث ذہنی اذیت کا شکار نوجوان اب اپنے مستقبل اور ذاتی دستاویزات کے ضائع ہونے کے خدشے کے پیشِ نظر شدید ذہنی اضطراب میں مبتلا ہیں۔متاثرہ نوجوانوں اور سماجی حلقوں نے اعلیٰ حکام، متعلقہ محکمے کے سیکریٹری، ڈائریکٹر جنرل، ڈپٹی کمشنر نوشہرو فیروز اور دیگر اعلیٰ ذمہ داران سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ:اس گھناؤنے واقعے کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے۔اس معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے۔نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے والے اور اس غفلت کے ذمہ دار عناصر کا تعین کرکے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔متاثرہ نوجوانوں کے کوائف اور مستقبل کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔اہم سوال یہ ہے کہ نوجوانوں کے مستقبل سے وابستہ یہ قیمتی دستاویزات آخر کار کچرے کے ڈھیر تک کیسے پہنچیں؟ کیا متعلقہ ضلعی و صوبائی حکام اس سنگین غفلت کا نوٹس لے کر متاثرہ نوجوانوں کو انصاف فراہم کریں گے؟



