اسلام آباد: پاکستان پوسٹ آفس میں ہزاروں غیر قانونی بھرتیوں کے بدنامِ زمانہ اسکینڈل نے فضل الرحمان کے سیاسی خاندانی اثر و رسوخ اور ان کے بیٹے سابق وفاقی وزیر مواصلات اسعد محمود کے گرد گھیرا سخت کر دیا ہے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے باضابطہ نوٹسز سامنے آنے کے بعد فضل الرحمان کے قریبی سیاسی حلقوں اور خاندانی سیاست پر احتساب کے شکنجے نے شدید قانونی و سیاسی بحران پیدا کر دیا ہے۔ ایک ہی معاملے پر دونوں اعلیٰ احتسابی و تحقیقاتی اداروں کی ہم وقت کارروائی نے اس اسکینڈل کی سنگینی کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔
نیب راولپنڈی (اسلام آباد) نے اپنے نوٹس (نمبر NABR20250214320446/2025/IW-1/Inq) مورخہ 2 نومبر 2026ء کے تحت اسعد محمود (شناختی کارڈ نمبر 10-7362810-12103) کو 10 نومبر 2026ء کو صبح 11 بجے سِوک سینٹر G-6 اسلام آباد میں قائم نیب کے علاقائی بیورو میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (CIT) کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔
نیب نے واضح کیا ہے کہ 2022ء اور 2023ء کے دورِ وزارت کے دوران پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ (PPOD) میں کی جانے والی تقرریاں نیب آرڈیننس 1999ء کی دفعہ 19 کے تحت زیرِ تفتیش ہیں، اور نوٹس کی عدم تعمیل کی صورت میں نیب آرڈیننس 1999ء کی دفعہ 31 کے تحت سخت سزا اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔نیب کی سرکاری دستاویزات اور نوٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے پاکستان پوسٹ آفس کو محض 3,938 آسامیوں پر بھرتی کی اجازت دی تھی، لیکن فضل الرحمان کے بیٹے کی وزارت کے زیرِ سایہ اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے 4,252 افراد پر مشتمل بھاری نفری کو خلافِ ضابطہ بھرتی کر لیا گیا۔
مزید برآں کابینہ کمیٹی کی واضح ہدایات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے 2,646 ختم شدہ (abolished) آسامیوں پر غیر قانونی تقرریاں کی گئیں۔
اگرچہ ڈی جی پوسٹ آفس کی جانب سے ٹیسٹنگ ایجنسی کے ذریعے صرف کنٹریکٹ کی بنیاد پر بھرتیوں کی تجویز دی گئی تھی، اس کے باوجود سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر بنا کسی معقول جواز کے بڑی تعداد میں من پسند اور فضل الرحمان کی پارٹی سے وابستگی رکھنے والے افراد کو مستقل تقرریاں دی گئیں، جس سے ادارے پر شدید ترین مالی بوجھ پڑا۔
دوسری جانب ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے بھی انکوائری نمبر 197/2026 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے 30 اکتوبر 2026ء کو نوٹس (نمبر FIA/ACC/ISB/LA/RE-197/26/3792) جاری کیا۔
اس نوٹس کے ذریعے دفعہ 160 CrPC کے تحت اسعد محمود (ساکن مکان نمبر 7، گلی نمبر 83، سیکٹر G-6/4 اسلام آباد / مستقل پتہ عبد الخیل، تحصیل پہاڑ پور، ضلع ڈیرہ اسماعیل خان) کو 2 نومبر 2026ء کو صبح 11 بجے تمام متعلقہ دستاویزات اور ثبوتوں کے ساتھ اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کے انکوائری آفیسر لیاقت علی کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلبی کا احکام نامہ جاری کیا گیا تھا۔
پاکستان پوسٹ آفس میں عوامی وسائل اور سرکاری اختیارات کے اس بے دریغ سیاسی استعمال اور فضل الرحمان کے قریبی سیاسی گھرانے کے مرکزی کردار پر اب یہ اہم سوالات اٹھ رہے ہیں کہ منظور شدہ حد سے تجاوز کر کے زائد بھرتیاں کس کے دباؤ یا حکم پر ہوئیں؟
اور ختم شدہ ہزاروں آسامیوں پر سیاسی من پسند افراد کو کس کی منشا پر تاحیات سرکاری خزانے سے مراعات فراہم کرنے کا راستہ ہموار کیا گیا؟
اس کے ساتھ ہی جعلی و بوگس دستاویزات، زائد العمر امیدواروں کی بھرتیوں اور ڈومیسائل کوٹے کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں کے سنگین چارجز بھی نیب کی التحقیق کا بنیادی حصہ ہیں۔
مولانا فضل الرحمن کے صاحبزادے مولانا اسعد محمود کیخلاف نیب اور FIA انکوائریاں، طلبی کا نوٹس جاری



