واشنگٹن ڈی سی :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابی نتائج کو باقاعدہ تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نتائج کو قبول کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر آئینی حدود میں کام کرنے کے لیے ان کا ہاتھ بڑھانے کو تیار ہیں۔ نیویارک ٹائمز اور وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے انٹرویوز میں صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ایران جنگ اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پیدا ہونے والی مہنگائی ریپبلکنز کی انتخابی ناکامی کی بنیادی وجہ بنے، کیونکہ عوام قلیل مدتی معاشی اثرات برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ انہوں نے ڈیموکریٹس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اپنی کابینہ میں فی الوقت کوئی تبدیلی نہیں کر رہے اور امیگریشن جیسے معاملات پر باہمی تعاون ممکن ہے، تاہم غیر ضروری نوعیت کے قانون سازی بل پیش کیے جانے کی صورت میں وہ اپنے صدارتی ویٹو کا حق استعمال کریں گے۔
دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج کے لئے اپنی سرکاری مصروفیات میں پریس کیلئے کوئی شیڈول نہیں رکھا وائٹ ہاؤس نےصدر ٹرمپ کا ایجنڈا جاری کر دیا ہے، جس میں پریس کے لیے فی الحال کوئی پروگرام نہیں رکھا گیا ہے ہے۔
مڈٹرم الیکشن کے نتائج قبول، ایران جنگ اور مہنگائی ریپبلکنز کی شکست کی وجہ بنی: ٹرمپ، صدر کاپریس کا سامنا کرنے گریز

